بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/11/2026

دارالافتاء

 

بیت اللہ کے گرد گول دائرے میں جماعت اور امام سے آگے ہونے کی صورتیں


سوال

حرمِ مکی میں کعبہ کے گرد دائرے کی شکل میں نماز ہوتی ہے۔ بعض لوگ امام کے مقابلے میں کعبہ سے زیادہ قریب ہوتے ہیں، بعض امام کے دائیں بائیں ہوتے ہیں مگر امام سے کچھ آگے محسوس ہوتے ہیں۔ کیا ایسی نماز درست ہے؟ اور حنبلی مسلک میں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

مسجدِ حرام میں امام کی  اقتدا کرنے والوں میں سے  جو شخص اسی جانب کھڑا ہو جس جانب امام نماز پڑھا رہا ہو تو  وہ اگر امام کی نسبت بیت اللہ سے زیادہ قریب ہو، خواہ امام کے دائیں جانب ہو یا بائیں جانب، تو اس کی اقتدا درست نہیں ہوگی۔ البتہ جو شخص امام کی جانب میں نہ ہو، تو وہ اگر بیت اللہ سے امام کی نسبت زیادہ قریب ہو،  تب بھی اس کی نماز ا درست ہوگی۔

نیز فقہ حنبلی میں بھی  یہ بات ہے کہ جو شخص اسی جانب کھڑا ہو جس جانب امام نماز پڑھا رہا ہو اور وہ امام کی نسبت بیت اللہ سے زیادہ قریب ہو، خواہ امام کے دائیں جانب ہو یا بائیں جانب، تو اس کی اقتدا درست نہیں ہوگی۔ البتہ جو شخص امام کی جانب میں نہ ہو، تو اس کی اقتدا  بہر حال درست ہوگی۔

 

وإن صلوا حول الكعبة متحلقين جاز... ثم صلاة الكل جائزة سواء كانوا أقرب إلى الكعبة من الإمام أو أبعد، إلا صلاة من كان أقرب إلى الكعبة من الإمام في الجهة التي يصلي الإمام إليها بأن كان متقدما على الإمام بحذائه فيكون ظهره إلى وجه الإمام، أو كان على يمين الإمام أو يساره متقدما عليه من تلك الجهة، ويكون ظهره إلى الصف الذي مع الإمام ووجهه إلى الكعبة؛ لأنه إذا كان متقدما على إمامه لا يكون تابعا له فلا يصح اقتداؤه به، بخلاف ما إذا كان أقرب إلى الكعبة من الإمام من غير الجهة التي يصلي إليها الإمام؛ لأنه في حكم المقابل للإمام، والمقابل لغيره يصلح أن يكون تابعا له بخلاف المتقدم عليه. )بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، 1/ 120(

أطلق المصنف هنا: عدم صحة الصلاة قدام الإمام، ومراده غير حول الكعبة فإنه إذا استداروا حول الكعبة، والإمام منها على ذراعين، والمقابلون له على ذراع صحت صلاتهم نص عليه قال المجد في شرحه لا أعلم فيه خلافا قال أبو المعالي، وابن منجا: صحت إجماعا قال القاضي في الخلاف: أومأ إليه في رواية أبي طالب. انتهى.هذا إذا كان في جهات أما إن كان في جهة، فلا يجوز تقدم المأموم عليه، على الصحيح من المذهب. (الإنصاف في معرفة الراجح من الخلاف،  2/ 281 )


فتویٰ نمبر : 11181/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں