بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/11/2026

دارالافتاء

 

بھائی سے وراثتی حصہ مانگنا


سوال

اگر بھائی نے بہن کی وراثتی زمین بغیراجازت فروخت کی ہو تو کیا 15 سال بعد بہن اپنا حصہ مانگ سکتی ہے؟ اور اگر مانگ سکتی ہے تو15 سال پہلے والی قیمت ملے گی یا آج کی موجودہ قیمت؟

 

جواب

کسی بھی وارث کے لیے دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر مشترکہ ترکہ کو استعمال کرنا یا اس میں سے کچھ حصہ فروخت کرنا جائز نہیں، قرآن وسنت میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق، اگر بھائی نے اپنی بہن کا وارثی حصہ بغیر اجازت کے فروخت کر دیا تھا، تو بھائی کا یہ بیچنا شرعاً ناجائز تھا اب بھائی پر لازم ہے کہ بعینہِ وہی زمین مشتری سے واپس لے کر بہن کو اس کا حصہ دے دے۔ یا اگر اس پر قدرت نہ ہوتو بہن کوموجودہ قیمت دے کراس پر راضی کردے۔

 

عن سعيد بن زيد قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول:"من أخذ شبرا من الأرض ظلمًا فإنه يطوقه من سبع أرضين. (مصنف ابن أبي شيبة، ج:12، ص:232)

(بطل)...بيع ما ليس في ملكه) لبطلان بيع المعدوم...(و) البيع الباطل حكمه عدم ملك المشتري إياه.وفي الرد:(قوله لبطلان بيع المعدوم) إذ من شرط المعقود عليه:أن يكون موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه .(ردالمحتار علی الدر المختار، كتاب البيوع، ‌‌باب البيع الفاسد، ج: 5، ص: 59،58)


فتویٰ نمبر : 3892/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں