بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

نمازِ جنازہ کے بعدورثاء کا حاضرین میں رقم تقسیم کرنا


سوال

ہمارے علاقہ میں یہ عام رواج ہےکہ جب جنازہ پڑھا جائے تو میت کے ورثاء جنازگاہ میں عام لوگوں پر پیسے (روپے) بطور صدقہ تقسیم کرتے ہیں اور اس میں امیر وغریب کے تعیین کیے بغیر تقسیم کرتے ہیں۔اس کاکیاحکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ میت کے ایصالِ ثواب کے لیے نفلی صدقہ و خیرات کرنا شرعاً جائز اور باعثِ اجر و ثواب ہے، البتہ کسی جائز عمل کو اس طرح مخصوص رسم بنا لینا کہ اسے ضروری سمجھا جائے، ناجائز ہے۔

صورتِ مسئولہ کےمطابق اگرنمازِجنازہ کےبعدحاضرین میں رقم تقسیم کرنا علاقے کا رواج بن چکاہو،تواس سےاجتناب ضروری ہے۔نیزنفلی صدقے کی رقم امیراورغریب دونوں کو دینا جائز ہے۔

 

ولو تصدق بذلك في البيت سرا لكان عملا صالحا لو سلم من البدعة أعني أن يتخذ ذلك سنة أو عادة لأنه لم يكن من فعل من مضى يعني السلف والخير كله في اتباعهم. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح،ص:606)

وأما صدقة التطوع فيجوز صرفها إلى الغني. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،ج:2،ص:47)


فتویٰ نمبر : 11165/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں