بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

میت کے گھر تین دن تک تلاوت اور اجتماعی دعا کرنا


سوال

جنازہ کی دن مغرب کے نماز کے بعد امام صاحب تلاوت کرتے ہیں اور پھر اس کے بعداجتماعی دعا فاتحہ خوانی ہوتی ہے؟اسی طرح میت کے گھر میں تین دن تک امام صاحب تلاوت کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد دعا ہوتی ہے۔ شرعاًاس کا کیاحکم ہے؟

جواب

قرآنِ کریم کی تلاوت، میت کے لیے دعائے مغفرت اور ایصالِ ثواب کرنا شرعاً جائز اور باعثِ ثواب ہے، لیکن عبادات کے لیے کسی خاص وقت، دن یا طریقے کو لازم قرار دینا، اور کسی ایسے طریقے کو مستقل رسم و رواج بنا لینا جس کی شرعاً تخصیص ثابت نہ ہو،درست نہیں۔

صورتِ مسئولہ میں جنازے کے دن مغرب کی نماز کے بعد امام صاحب کا تلاوت کرنا، پھر اجتماعی دعا اور فاتحہ خوانی کرنا، اسی طرح  میت کے گھر میں تین دن تک امام صاحب کا تلاوت کرنا اور اس کے بعد اجتماعی دعا کرنا،اگر اس کولازم اور ضروری تصور کیا جاتاہو، تو یہ شرعاً ناجا ئز ہے، کیونکہ شریعت میں جنازے کے دن مغرب کے بعد یا میت کے گھر تین دن تک اسی مخصوص طریقے سے تلاوت اور اجتماعی دعا کرنے کی کوئی تخصیص ثابت نہیں۔البتہ اگر کسی خاص وقت کی پابندی اور اس عمل کوشرعاً لازم سمجھے بغیر قرآنِ کریم کی تلاوت کی جائےاور میت کو ایصالِ ثواب کیا جائے اور اس کے لیے اجتماعی دعا کی جائےتو اس کی گنجائش ہے۔

 

عن عائشة رضي الله عنها، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من ‌أحدث ‌في ‌أمرنا ‌هذا ما ليس فيه فهو رد. قال ابن عيسى: قال النبي صلى الله عليه وسلم: من صنع أمرا على غير أمرنا فهو رد.(سنن أبي داود، كتاب السنة، باب في لزوم السنة، رقم الحديث: 4606)

(قوله وشر الأمور محدثاتها)…..والمحدثات بفتح الدال جمع محدثة والمراد بها ما أحدث وليس له أصل في الشرع ويسمى في عرف الشرع بدعة وما كان له أصل يدل عليه الشرع فليس ببدعة. (فتح الباري، كتاب الفتن، باب الاقتداء بسنن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ج:13،ص:253)

ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،ج:2،ص:240)


فتویٰ نمبر : 11166/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں