بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

ڈیجیٹل تصویرکی شرعی حیثیت


سوال

ڈیجیٹل تصویرکا استعمال جائزہے یا نہیں؟ نیزتصویرکھچوانےمیں ضرورت کا معیارکیاہے؟ اورآج کل جواس کااستعمال کیا جاتا ہے، کیا یہ اس ضرورت میں شمارہوگا یا نہیں؟

جواب

تصویرکی حقیقت میں کسی ایسی تعریف پراعتمادمشکل ہےجوہردورمیں تصویرکی ہرروپ پرصادق آئے،بلکہ تصویرکی حقیقت کوعرف کےحوالےکرنا ہی مناسب ہے،گویااس کی حقیقت اجتہادی ہے۔ہردورمیں تصویرکی بدلتی ہوئی شکلوں کےمطابق معاشرہ کےعمومی اطلاق اورعرف کوسامنےرکھتے ہوئےتصویرہونےیا نہ ہونےکا حکم لگایاجائےگا۔

قرائن سےمعلوم ہوتاہےکہ ڈیجیٹل تصویر(فوٹو)تصویرہی کی جدید قسم ہے،کیونکہ یہ عرف کےحوالہ سےتصویرہی ہےاورتصویرکی ممانعت احادیث نبویہ اورفقہائےکرام کی تصریحات سےواضح ہے۔تاہم جہاں شخصی،ذاتی اورنجی ضروریات کومدنظررکھ کرپرنٹ تصویرحرمت کےباوجود قومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ، کرنسی اوردیگراہم کاغذات میں جائزقراردیاجاتاہے۔اسی طرح معاشرتی اورعالمی حالات کومد نظررکھتےہوئےباطل پروپیگنڈےکی تردیداورحق کی آوازدنیاتک پہنچانےکےلیےالیکٹرانک میڈیا کےاستعمال کی اجازت دی جاسکتی ہےجوکہ ایک اجتماعی ضرورت ہے۔ہاں غیرشرعی مقاصد اورفحاشی وعریانی پھیلانےکےلیےالیکٹرانک میڈیا کا استعمال قطعاًجائزنہیں۔

 

عن مسلم قال کنا مع مسروق في دار یساربن نمیر فرأی في صفتہ تماثیل فقال:سمعت عبداللہ سمعت النبی ﷺ یقول: أشدالناس عذاباً عنداللہ یوم القیامۃ المصورون. (صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب عذاب المصورین یوم القیامۃ،ج:5، ص:2220، رقم الحدیث:5606)

عن عائشہ رضی اللہ عنھا،أن رسول اللہ ﷺ،قال: إن أصحاب ھذہ الصور یعذبون یوم القیامۃ ویقال لھم أحیوا ما خلقتم. (صحیح البخاری، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالی(واللہ خلقکم وما تعملون)،ج:6، ص: 2747، رقم الحدیث:7118)

الضرورات تبیح المحظورات. (المبسوط للسرخسي،ج:10، ص:154)

وظاھر کلام النوویؒ في شرح المسلم الإجماع علی تحریم تصویر الحیوان وقال سواء صنعہ لما یمتھن أولغیرہ فصنعتہ حرام بکل حال لأن فیہ مضاہاۃ خلق اللہ سواء کان في ثوب أو بساط أو درهم أو إناء أوحائط وغیرھا فینبغي أن یکون حراماً لا مکروھاً أن ثبت الإجماع أو قطعیۃ الدلیل بتواترہ. (ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الصلوۃ، باب مایفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا،ج:1، ص:647)


فتویٰ نمبر : 6868/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں