بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

پلاسٹک سرجری کے ذریعے موٹی ناک کو خوبصورت بنانا


سوال

اگر کسی انسان کی ناک غیر معمولی حد تک بڑی اور بدصورت ہو، تو کیا وہ پلاسٹک سرجری کے ذریعے اس کی اصلاح کر کے اسے خوبصورت یا نارمل بنا سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ازروئے شریعت انسان کو اپنے جسم میں تبدیلی کرنے اور تغییر لانے سے منع کیا گیا ہے چنانچہ حُسن وخوبصورتی کے لیے یا مزید پُرکشش بننے کے لیے سرجری کا عمل "تغییر لخلق الله " کے زمرے میں آنے کی بنا پر حرام ہے۔ تاہم اگر کوئی عضو واقعتاً معتدل فطری ہیئت کے مطابق نہ ہو، جس کی وجہ سے وہ عیب معلوم ہوتا ہو اور اس کے ساتھ معاشرہ میں رہنا اور چلنا پھرنا نفسیاتی طور پر باعث اذیت ہو، تو اس کی ساخت کو معتدل ہیئت کے مطابق بنانے کے لئے سرجری کروانے کی گنجائش ہوگی۔

 صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر ناک اتنی زیادہ موٹی ہو کہ عادتاً لوگوں کی ناک ایسی نہیں ہوتی، اور چہرے کی ساخت کی نسبت سے واقعتاً بہت بڑی اور غیر معتدل ہو اور اس وجہ سے چلنا پھرنا نفسیاتی طور پر باعث اذیت ہو، تو اس کی ساخت کو معتدل بنانے کے لئے سرجری کرنے کی گنجائش ہوگی، اور اگر ناک فطرت کے مطابق ہو لیکن اس میں مزید حسن کے لئے پلاسٹک سرجری کرنا چاہے تو شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔

 

عن عبد الله. قال:‌لعن ‌الله الواشمات والمستوشمات، والنامصات والمتنمصات، والمتفلجات للحسن المغيرات خلق الله. (صحيح مسلم، کتاب اللباس والزينة، باب تحريم فعل الواصلة والمستوصلة إلخ، ج:2، ص:212 )

وفيه إشارة إلى أن الحرام هو المفعول لطلب الحسن أما لواحتاجت إليه لعلاج أو عيب في السن ونحوه فلابأس. (شرح النووي علی مسلم، ج:14، ص:107)

"والحاصل أن كل ما يفعل من جسم من الزيادة أونقص من أجل الزينة بما يجعل الزيادة أو النقصان مستمرا مع الجسم وبما يبدو منه أنه كان فی أصل الخلقة هكذا فانه تلبيس وتغيير منهي عنه ـ وأما ما تزينت به المرأة من تحمير الأيدی أو الشفاه أو العارضيين بما لا يلتبس بأصل الخلقة فإنه ليس داخلا فی النهي عند جمهور العلماء. وأما قطع الإصبع الزائدة ونحوها ليس تغييرا لخلق الله وإنه من قبيل إزالة العيب أو مرض، فأجازه أكثر العلماء خلافا لبعضهم."(تكملة فتح الملهم، كتاب الباس والزينة، ج:4 ، ص: 195)


فتویٰ نمبر : 6861/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں