بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

معاشی حالات کی بنا پر بیمہ کروانا


سوال

میں اس وقت جرمنی (Germany) میں مقیم ہوں اور بطور ملازم (Employee) کام کر رہا ہوں۔ یہاں کے معاشی حالات کے  پیشِ نظر مجھے ہاؤس ہولڈ انشورنس، وکیل کی انشورنس اور عام لائبلٹی انشورنس کی گنجائش ہے، یا نہیں؟ جبکہ یہ تمام انشورنسز ریاست کی طرف سے قانوناً فرض (Mandatory) نہیں ہیں، لیکن یہاں کے اخراجاتِ زندگی اتنے زیادہ ہیں کہ ان کے بغیر شدید مالی تنگی اور خطرات (Severe Financial Hardship / Hajah) کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جواب

واضح رہے کہ مروجہ انشورنس یعنی بیمہ سود، قمار اور غرر پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے بیمہ کرنا جائز نہیں، چاہے جس قسم کا بھی انشورنس ہو، تاہم اگر کسی جگہ بیمہ کروانا قانونا لازم ہو تو وہاں اس کی گنجائش ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق محض معاشی حالات کی وجہ سے کسی قسم کا بیمہ کروانا جائز نہیں۔

 

قال الله تعالی: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ [المائدة: 90]


فتویٰ نمبر : 4259/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں