بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

علم ہونے کے باجود چوری کا مال خریدنا


سوال

میری دوکان ہے اس پر ایک آدمی چوری کا سامان لاتا ہے اور مجھے پتہ بھی ہے کہ وہ چوری کا مال ہے تو کیا اس سامان کو میں اس سے خرید سکتا ہوں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر خریدار کو اس بات کا علم ہوکہ فروخت کنندہ چوری کی اشیاء بیچ رہا ہے تو اس کے لیے چوری کی اشیاء کو خریدنا جائز نہیں، اگر خریدار نے چوری کا مال خرید لیا تو اُسے اس مال کو استعمال کرنا یا آگے فروخت کرنا جائز نہیں۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ شخص کے بارے میں جب معلوم ہے کہ اس کے پاس چوری کا مال ہے، تو اس سے یہ مال خریدنا جائز نہیں ہوگا۔

 

‌وفيه: ‌الحرام ينتقل، فلو دخل بأمان وأخذ مال حربي بلا رضاه وأخرجه إلينا ملكه وصح بيعه، لكن لا يطيب له ولا للمشتري منه.:‌قوله:(‌الحرام ينتقل) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الأيدي وتبدلت الأملاك، ويأتي تمامه قريبا(قوله ولا للمشتري منه) فيكون بشرائه منه مسيئا؛ لأنه ملكه بكسب خبيث، وفي شرائه تقرير للخبث، ويؤمر بما كان يؤمر به البائع من رده على الحربي؛ لأن وجوب الرد على البائع إنما كان لمراعاة ملك الحربي ولأجل غدر الأمان، وهذا المعنى قائم في ملك المشتري كما في ملك البائع الذي أخرجه.(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب البيوع،باب البيع الفاسد،ج:7،ص:300)

‌والحاصل ‌أنه ‌إن ‌علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه.(ردالمحتار على الدر المختار،باب البيع الفاسد،مطلب فيمن ورث مالا حراما،ج:7،ص:301)


فتویٰ نمبر : 4260/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں