بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 29/10/2026 |
دارالافتاء
کسی ملک میں مستقل رہائش رکھنے والے کے لئے وطن اصلی کا حکم
سوال
ایک شخص کے پاس اسپین کی پرمننٹ ریزیڈنسی (Permanent Residency) (مستقل رہائش ) ہے، البتہ پاسپورٹ اور نیشنلٹی (Nationality) پاکستان کی ہے، تو کیا اس کے لیے اسپین کا شہر وطن اصلی بن جائےگا؟
جواب
واضح رہے کہ وطن اصلی اس کو کہا جاتا ہے جہاں پر انسان اپنے اہل وعیال کے ساتھ مستقل رہائش کی نیت سے رہ رہا ہو، نیز وطن اصلی ایک سے زائد بھی ہوسکتے ہیں بشرطیکہ ہرجگہ مستقل رہائش کی نیت ہو اور اگر کسی جگہ مستقل رہنے کی نیت نہ ہو البتہ پندرہ دن یا اس سے زائد رہنے کی نیت ہوتو وہ جگہ وطن اقامت کہلائے گی۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر مذکورہ شخص نے اسپین میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ مستقل رہنے کی نیت کی ہو اور پاکستان میں اپنے شہر یا گاؤں میں رہنے کی نیت بالکل ترک کی ہو، تو اسپین اس کا وطن اصلی شمار ہوگا، لیکن اگر اس نے پاکستان کو ترک کرنے کی نیت نہ کی ہو، تو دونوں جگہیں اس کے لئے وطن اصلی شمار ہوں گی، اور دونوں میں پوری نماز پڑھے گا۔
(الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه.(الدر المختار على صدر رد المحتار،كتاب الصلوة،باب صلوة المسافر، ج:2،ص:614)
ثم الوطن الأصلي يجوز أن يكون واحدا أو أكثر من ذلك بأن كان له أهل ودار في بلدتين أو أكثر ولم يكن من نيةأهله الخروج منها.(بدائع الصنائع،كتاب الصلوة،فصل في بيان مايصير به المسافر مقيما ،ج:1،ص:498)
ثم الوطن الأصلي يجوز أن يكون واحدا أو أكثر من ذلك بأن كان له أهل ودار في بلدتين أو أكثر ولم يكن من نيةأهله الخروج منها.(بدائع الصنائع،كتاب الصلوة،فصل في بيان مايصير به المسافر مقيما ،ج:1،ص:498)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 331
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 249
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 910
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 458
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 113
- کتاب النکاح | فتاوئ : 581
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 499
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 34
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 61
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 481
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 103
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 83
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 64
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 328
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1207
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 392
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 19
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں