بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

مرد کے لئے سرمہ لگانا


سوال

مرد کے لیےسیاہ اور دیگر کسی بھی رنگ کا سرمہ استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟

 

جواب

واضح رہے کہ سرمہ ایک مستحب عمل ہے، رسول اللہ ﷺنے سرمہ  کے متعلق فرمایا:" اثمد سرمہ لگاؤ ،کیونکہ اس سے نظر تیز ہوتی ہے اور بال بڑھتے ہیں ۔" سرمہ کی کوئی خاص قسم  مقرر نہیں ،بلکہ جو سرمہ  بھی آنکھوں کےلئے فائدہ مند ہو، لگا سکتے ہیں،البتہ عرب میں عام استعمال کی وجہ سے  نصوص  میں اکثر اثمد کا ذکرآیا ہے۔سرمہ لگانے کے دوفوائد حدیث میں مذکورہیں:اس سےنظر تیز ہوتی ہے،اوربال بڑھتے ہیں۔

مرد کے لئے اثمد سرمہ لگانے میں توکوئی حرج نہیں ،البتہ سیاہ سرمہ اگر زینت وتفاخر کی نیت سے لگائے تو مکروہ ہوگا۔

 

عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: اكتحلوا بالإثمد؛ فإنه يجلو البصر وينبت الشعر.( سنن الترمذي، أبواب اللباس، باب ما جاء في الاكتحال، ج:3، ص:361، رقم الحديث:1757)

لا بأس بالإثمد للرجال باتفاق المشايخ ويكره الكحل الأسود بالاتفاق إذا قصد به الزينة واختلفوا فيما إذا لم يقصد به الزينة عامتهم على أنه لا يكره كذا في جواهر الأخلاطي.( الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب العشرون في الزينة واتخاذ الخادم للخدمة، ج:5، ص:359)


فتویٰ نمبر : 6865/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں