بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

نذر میں مانی ہوئی دیگ غریب کی شادی میں دینا


سوال

اگر کسی شخص نے نذر مانی ہو کہ وہ اللہ کے نام پر ایک دیگ گوشت والے چاول پکا کر کسی مستحق شخص کو دے گا، اب اس کے محلے میں ایک غریب شخص کی شادی ہے، جو مالی تنگی کی وجہ سے اس سے مدد طلب کرتا ہے۔ ایسی صورت میں نذر ماننے والا شخص پوچھتا ہے کہ اگر وہ اس غریب کی شادی کے موقع پر گوشت والے چاول کے بجائے دو دیگ سادہ چاول پکوا دے، تو کیا اس کی نذر پوری ہو جائے گی یا نہیں؟

 

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص نذر کے لیے کوئی چیز معین کر لے تو نذر اس خاص شے کے ساتھ لازم نہیں ہوتی، بلکہ اس کی قیمت یا قیمت کے برابر کوئی اور چیز صدقہ کرنے سے بھی نذر ادا ہو جاتی ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے نذر مانی ہو کہ وہ گوشت والے چاولوں کی ایک دیگ پکا کر کسی مستحق غریب کو دے گا، تو وہ اس کے بجائے  اس غریب کی شادی کے موقع پر سادہ چاولوں کی دو دیگیں پکوا کر دے سکتا ہے، بشرطیکہ ان دو دیگوں کی قیمت گوشت والے چاولوں کی ایک دیگ کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو اور وہ اس مستحق کو مالک بنا کر دے دے۔ پھر وہ اپنی طرف سے شادی میں آنے والے مہمانوں کو کھلائے۔ اس صورت میں نذر پوری ہوجائے گی۔

 

(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق)...(قوله ونذر) كأن نذر أن يتصدق بهذا الدينار فتصدق بقدره دراهم أو بهذا الخبز فتصدق بقيمته جاز عندنا.( رد المحتار على الدر المختار، كتاب الزكوة، باب زكوة الغنم، ج: 2، ص:285)

(نذر أن يتصدق بعشرة دراهم من الخبز فتصدق بغيره جاز إن ساوى العشرة) كتصدق بثمنه.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الايمان، باب: اليمين في الدخول والخروج والسكنى والاتيان والركوب وغير ذلك، ص:385)

ولو أوجب على نفسه صدقة بشاتين فتصدق مكانهما بشاة واحدة تبلغ قيمتها قيمة شاتين جاز ويخرج عن النذر.( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الزكاة، فصل الذي يرجع إلى المؤدي، ج:2، ص:42)


فتویٰ نمبر : 11154/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں