بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کے جنریٹر کو حجرے یا اجتماع میں استعمال کرنا


سوال

مسجد کے لیے وقف شدہ جنریٹر کو کسی دوسری جگہ، مثلاً غمی  کے وقت  حجرے یا  کسی دینی اجتماع وغیرہ میں استعمال کرنا کیسا ہے؟ کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ وقف شدہ اشیاء کا استعمال واقف کی شرائط کے مطابق کرنا لازم ہے، چنانچہ اگر واقف نے کوئی چیز مسجد  کے لیے وقف کی ہو، تو اسے صرف مسجد کے لئے استعمال کرنا جائز ہوگا۔ اس کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لیے اس کا استعمال کرنا جائزنہیں ہوگا۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر واقف نے جنریٹر صرف مسجد کے لیے وقف کیا تھا، تواسے غمی کے وقت حجرے میں یا مسجد سے باہر کسی دینی  اجتماع میں استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا۔

 

‌(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يعار ولا يرهن).( الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الوقف، ص:370)

شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به.(رد المحتار على الدر المختار، مطلب في وقف المنقول قصدا، ج:4، ص:366)


فتویٰ نمبر : 6860/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں