بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

حلال اور حرام مال ڈیلیور کرنے والی کمپنی میں ملازمت


سوال

ایک شخص بیرونِ ملک(اسکاٹ لینڈ) ایک کمپنی میں ہوم ڈیلیوری کا کام کرتا ہے، جہاں لوگ آن لائن مختلف قسم کی اشیاء خریدتے ہیں۔ ان اشیاء میں شراب بھی شامل ہے، جس کی ڈیلیوری بھی کی جاتی ہے۔ کیا ایسی کمپنی میں ملازمت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی مسلمان کے لیے شراب کی خرید و فروخت کرنا یا اس میں کسی بھی قسم کا تعاون کرنا شرعاً جائز نہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے معاملے میں دس اشخاص پر لعنت فرمائی ہے۔ ان دس اشخاص میں شراب پینے والے اور خریدنے والے کی طرح شراب بیچنے والا اور اسے اٹھا کر پہنچانے والا بھی شامل ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق  اگر کسی کمپنی میں صرف شراب یا زیادہ تر شراب کی ڈیلیوری کی جاتی ہو، تو ایسی کمپنی میں ملازمت اختیار کرنا شرعاً جائز نہیں۔ البتہ اگر کسی کمپنی میں زیادہ تر حلال اشیاء کی ڈیلیوری کی جاتی ہو، تو ایسی کمپنی میں ملازمت کرنے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ ملازم شراب اور دیگر حرام اشیاء کی ڈیلیوری سے  حتی الوسع اجتناب کرے۔ اور کمپنی میں ملازمت اختیار کرتے وقت مالک سے یہ طے کر لینا چاہیے کہ وہ شراب یا دیگر حرام اشیاء کی ڈیلیوری نہیں کرے گا۔

 

قال الله تعالی:﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾.(المائده:2)

عن أنس بن مالك قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر عشرة: عاصرها، ومعتصرها، وشاربها، وحاملها، والمحمولة إليه، وساقيها، وبائعها، وآكل ثمنها، والمشتري لها، والمشتراة له.(سنن الترمذي، أبواب البيوع، باب النهي أن يتخذ الخمر خلا، ج:3، ص:581، رقم الحديث:1295)

أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها.(الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ج:5، ص:343)


فتویٰ نمبر : 4257/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں