بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پردرس قرآن اورديگر بيانات وغيره كرنا


سوال

ایک مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر قرآنِ کریم کا ترجمہ و تفسیر، دینی بیانات اورنعت خوانی کی محفلیں وغیرہ منعقد ہوتی رہتی ہیں۔ لاؤڈ اسپیکر کی بلند آواز کی وجہ سے آس پاس گھروں میں سکون سے سونا، پڑھنا اور روزمرہ کے معمولات انجام دینا مشکل ہو گیا ہے۔ مزید عمررسیدہ افراد اور بیمار لوگ بھی موجود ہیں، جنہیں لاؤڈ اسپیکر کی آواز سے شدید تکلیف ہوتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں شرعی اعتبار سے مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر ان دینی پروگراموں کا انعقاد کس حد تک جائز ہے؟ کیا ان پروگراموں کے لیے لاؤڈ اسپیکر کی آواز کو محدود رکھنا ضروری ہے، تاکہ اہلِ محلہ کو تکلیف اور پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے؟

جواب

قرآنِ مجید کا درس دینا نیکی کا کام اور ثواب کا ذریعہ ہے، البتہ اس کی آواز کوسامعین کی حد تک محدود رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے،اور مسجد كا اندرونی اسپیکر ہی استعمال کرنا چاہیے، مسجد کے بیرونی لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کرنے سے محلے میں اگر کسی مریض  کی راحت میں،عبادت کرنے والے کی عبادت میں ،سونے والے کے آرام میں خلل واقع ہو اور ایذاء کا باعث  بنے  تو یہ شرعاً  درست نہیں ، اس سے احتراز کرنا چاہیے۔

 

عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: المسلم من سلم الناس من لسانه ويده، والمؤمن من أمنه الناس على دمائهم وأموالهم.( سنن النسائي، كتاب: الإيمان وشرائعه، ج:8، ص:104، رقم الحديث:4995)

أجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارئ.( رد المحتار على الدر المختار، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، فروع أفضل المساجد، ج:1، ص:660)

وفي الفتح عن الخلاصة: رجل يكتب الفقه وبجنبه رجل يقرأ القرآن فلا يمكنه استماع القرآن فالإثم على القارئ وعلى هذا لو قرأ على السطح والناس نيام يأثم اهـ أي لأنه يكون سببا لإعراضهم عن استماعه، أو لأنه يؤذيهم بإيقاظهم.( رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، فصل في القراءة، ج:1، ص:546)


فتویٰ نمبر : 6859/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں