بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

منگنی میں دیئے گئے تحائف واپس لینا


سوال

میری بیٹی کی منگنی ہوئی ہے اسی موقع پر میری بیٹی کو کچھ تحائف دیے۔ان میں سے ہم نے اکثر استعمال کرلیے  ۔اب کچھ ناچاقی کی وجہ سے لڑکے کے گھر والوں نے رشتہ توڑ كر  کہتے ہیں  کہ ہمیں منگنی میں دی گئی  اپنے تحائف واپس کرو تو کیا ہم پر ان کے تحائف واپس کرنا  لازم ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ موہوبہ چیز استعمال ہونے سے ختم ہوجائے یا اس میں تبدیلی ہوجائے، یا اس چیز میں ایسی زیادتی ہوجائے جو اس کے ساتھ متصل ہو،یاموہوب لہ (جسے ہبہ کیا گیا ہے) کی ملکیت سے موہوبہ چیز نکل جائے تواس میں رجوع نہیں ہوسکتا۔

لہذاصورت مسئولہ کے مطابق اگرلڑکے والوں نےمنگنی کے موقع پرکوئی چیزلڑکی کو بطور ہبہ دی ہو تو ان تحائف میں سے جو استعمال سے ختم ہوگئے ہیں ان کی واپسی ممکن نہیں،البتہ جو چیزیں باقی ہیں اگر منگنی ختم ہونے کے بعد وہ تحفہ دینے والا اس کی واپسی کا مطالبہ کرے تو جس کو تحفہ دیا گیا ہے اس کی رضا مندی سے وہ واپس لے سکتا ہے۔اور اگر اس کی رضا مندی نہ ہو تو پھر عدالت کے ذریعے وصول کیا جا سکتا ہے۔

 

(‌قوله ‌لأنه ‌في ‌معنى ‌الهبة) أي والهلاك والاستهلاك مانع من الرجوع بها، وعبارة البزازية لأنه هبة اهـ ومقتضاه أنه يشترط في استرداد القائم القضاء أو الرضا، وكذا يشترط عدم ما يمنع من الرجوع، كما لو كان ثوبا فصبغته أو خالطته .(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب النکاح، باب المهر، مطلب فيما يرسله إلى الزوجة، ج:3، ص: 153 )


فتویٰ نمبر : 6858/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں