بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

عدت وفات میں بوقت ضرورت رشتہ داروں کے ہاں جانا


سوال

ہماری ایک معذور بہن ہے اس کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے اور وہ ایامِ عدت میں ہے۔ ان کے گھر والے کہیں اور چلے گئے ہیں اور ان کی خدمت کے لیے کوئی بھی موجود نہیں۔ ہم انہیں اپنے گھر لانا چاہتے ہیں، تو کیا ہم اپنی بہن کو عدت کے دوران اپنے گھر لے آ سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جس عورت کا شوہر فوت ہوچکا ہو،اس عورت پر قرآن پاک کی آیت کی رو سے چار ماہ دس دن عد ت گزارنا  لازم ہے، جس گھر میں وہ شوہر کی زندگی میں رہتی تھی اسی میں عدت گزارے گی اور بغیر ضرورت کے اس گھر سے نکلنا اس کے لیے جائز نہیں ، تاہم ضرورت شدیدہ کے وقت اس کے لیے گھر سے نکلنے کی رخصت ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں سائل کی بہن اگر ایام عدت میں ہو اور گھر میں اکیلی ہو اورخدمت کی محتاج ہو جب کہ خدمت کے لیےگھر میں کوئی بھی موجود نہ ہو تو اس صورت میں وہ سائل کے گھر منتقل ہو سکتی ہے  ۔

 

(قوله وتعتدان في بيت وجبت فيه إلا أن تخرج أو ينهدم) أي معتدة الطلاق والموت يعتدان في المنزل المضاف إليهما بالسكنى وقت الطلاق والموت ولا يخرجان منه إلا لضرورة.(البحرالرائق،كتاب الطلاق، باب العدة،ج:4،ص:167)


فتویٰ نمبر : 7554/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں