بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

غیر مسلم كا ذبیحہ کھانا


سوال

ایک شخص برازیل میں رہتا ہے، جہاں عام طور پر غیر مسلموں کا ذبح کیا ہوا گوشت دستیاب ہوتا ہے، جبکہ مسلمانوں کا ذبح کیا ہوا گوشت بہت کم ملتا ہے اور جلد ہی ختم ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف، دال، چنے اور دیگر متبادل غذائیں گوشت کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہیں اور انہیں حاصل کرنے میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں کیا اس شخص کے لیے غیر مسلموں کا ذبح کیا ہوا گوشت کھانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ حلال جانور  کو  ذبح کرنے والا اگر  مسلمان یا اہل کتاب ہو اور اللہ کا نام لے کر ذبح کیا ہو تو اس گوشت کا کھانا جائز ہوتا ہے  اور اگر ذبح کرنے والا مسلمان و کتابی نہ ہو یا قصداً اللہ تعالی کا نام نہ لے،تو اس گوشت  کا کھانا جائز نہیں ۔

 صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر شرعی اصولوں کے مطابق حلال جانور کا گوشت دستیاب  نہ ہو، تواس عذر کی بناپر حرام گوشت کھانے کی اجازت  نہیں۔

 

(ومنها) أن يكون مسلما أو كتابيا فلا تؤكل ذبيحة أهل الشرك والمجوسي والوثني وذبيحة المرتد.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الذبائح والصيود، فصل في بيان شرط حل الأكل في الحيوان المأكول، ج:5، ص:45)

(ومنها) أن يكون مسلما أو كتابيا فلا تؤكل ذبيحة أهل الشرك والمرتد.( الفتاوى الهندية، كتاب الذبائح وفيه ثلاثة أبواب، الباب الأول في ركن الذبح وشرائطه وحكمه وأنواعه، ج:5، ص:285)


فتویٰ نمبر : 6856/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں