بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

دوست کے لیے موبائل خرید کر اپنا کمیشن وصول کرنا


سوال

میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا کہ آپ میرے لیے مارکیٹ سے ایک اچھا موبائل خرید کر دے دیں،اس کام کے لیے مجھے اپنا وقت نکال کر مارکیٹ جانا، مختلف موبائل دیکھنا اور تحقیق کرکے اس کے لیے مناسب موبائل تلاش کرنا ہوگا،  میرا دوست مجھے صرف اپنا نمائندہ یا وکیل بنا کر بھیجتا ہے کہ میں اس کے لیے موبائل خرید دوں، ایسی صورت میں کیا میں اسے بتائے بغیر اپنی محنت کا معاوضہ(5 ہزار، 10 ہزار) موبائل کی اصل قیمت میں شامل کرکے لے سکتا ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو یہ کہتا ہے کہ "آپ میرے لیے بازار سے فلاں چیز خریدکرآؤ "تو یہ توکیل باشراء یعنی خریداری کے لیے وکیل بنانےکا معاملہ ہے، بطورِ وکیل کسی کے لیے کوئی کام کرنے پر وکیل کو اجرت لینے کا حق اس وقت ہوتا ہے جب وکالت کے وقت صراحۃً  یہ بتایا ہو کہ میں اتنی اجرت لوں گا یا پھر وہ وکیل اجرت کےلیے خریداری کرنے پر   مشہور ہو،اگر ان دونوں باتوں میں سے کوئی ایک بھی نہ پائی جائے تو پھر وکیل کو اپنی محنت کا  معاوضہ  لینے کا حق نہیں ۔

لہذا صورت مسئولہ میں سائل کو جس دوست نے موبائیل خریدنے کے لیے وکیل بنایا ،اگر سائل اس سے صراحۃً  یہ کہا ہو کہ" میں اتنی اجرت لوں گا "یا پھر سائل اجرت کے عوض لوگوں کے لیے خریداری کرنے پر مشہورہو توپھراپنی محنت کا معاوضہ لیناجائز ہے،لیکن اگر اس نےنہ  اجرت لینے کی صراحت کی ہو اور نہ وہ  اجرت کے عوض خریداری کر نے میں مشہور ہو  توپھر اپنی محنت کا معاوضہ لینا جائز نہیں۔

 

إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة ، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة.(مجلة الأحكام العدلية، الباب الثالث: في بيان أحكام الوكالة، الفصل الأول: في بيان أحكام الوكالة العمومية،المادة:1467،ج:3،ص:573)


فتویٰ نمبر : 4256/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں