بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 16/10/2026

دارالافتاء

 

اعادہ نماز میں مسبوق مقتدی کے لئے حکم


سوال

اگرواجب کے چھوٹ جانے کی وجہ سے نماز کا اعادہ ہو رہا ہو تو وہ شخص جو اسی فرض نمازمیں مسبوق تھا، کیا وہ اپنی نماز پوری کرکے شریک ہوگا یا اپنی نماز توڑ کر شریک ہوگا؟

 

جواب

اگرکسی باجماعت نماز میں کوئی واجب چھوٹ جائےاورامام ترک واجب کے ازالے کےلئےسجدہ سہوہ نہ کرلے توایسی نمازکااعادہ كرناواجب ہوتا ہے۔ چنانچہ اگرامام سلام پھیرنے کے بعد ترکِ واجب کی وجہ سے نمازکااعادہ کررہاہو توجو مقتدی پہلی نماز میں مسبوق ہواس کے لئے حکم یہ ہےکہ پہلے اپنی نماز پوری کرےکیونکہ فرض نماز وہی ہے اوراس کے بعد جونمازدوبارہ لوٹائی جارہی ہے اس میں شریک ہو ورنہ اگر پہلی نمازکوتوڑ دیااور دوسری میں شرکت کرلی تو فرض نماز ادا نہیں ہوئی کیونکہ فرض پہلی نماز تھی اوروہ اس نے پوری نہیں کی ۔

 

ولا إشكال في وجوب الإعادة إذ هو الحكم في كل صلاة أديت مع كراهة التحريم ويكون جابرا للأول لأن الفرض لا يتكرر.( فتح القدير،ج:1، ص:301)

أنهم قالوا كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها.(ردالمحتار مع الدر المختار، ج:2، ص:55)

والمختار أن المعادة لترك واجب نفل جابر والفرض سقط بالأولى لأن الفرض لا يتكرر كما في الدر وغيره .( حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح،ص:248)


فتویٰ نمبر : 11141/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں