بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 29/10/2026

دارالافتاء

 

وطن اصلی کا متعدد ہونا


سوال

ایک بندے کے وطن اصلی ایک سے زیادہ ہو سکتے ہیں مثلا اس کی جائے پیدائش اور گھر زمینیں کسی گاؤں میں ہوں اور اب وہ  دوسرے شہر میں آگیا ہو ادھر بھی اس کا ذاتی گھر ہو کیا یہ دونوں وطن اصلی بن سکتے ہیں؟

جواب

 واضح رہے کہ وطن اصلی اس کو کہا جاتا ہے جہاں پر انسان اپنے اہل وعیال کے ساتھ مستقل رہائش کی نیت سے رہ رہا ہو، نیز وطن اصلی ایک سے زائد بھی ہوسکتے ہیں بشرطیکہ ہرجگہ مستقل رہائش کی نیت ہو اور اگر کسی جگہ مستقل رہنے کی نیت نہ ہو لیکن پندرہ دن یا اس سے زائد رہنے کی نیت ہوتو وہ جگہ وطن اقامت کہلائے گی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل نے اس دوسرے شہر میں اپنے اہل وعیال کے ساتھ مستقل رہنے کی نیت کی ہو اور پہلے وطن میں رہنے کی نیت بالکل ترک کی ہو، تو یہ دوسرا شہر اس کا وطن اصلی شمار ہوگا، لیکن اگر اس پہلے شہر کے چھوڑنے کا ارادہ نہ ہو، اور اس کے کچھ اہل وعیال اورجائیداد وغیرہ بھی وہاں ہو، تو یہ دونوں شہر اس کے وطن اصلی شمار ہوں گے، اور دونوں میں پوری نماز پڑھے گا۔

 

(الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه.(الدر المختار على صدر رد المحتار،كتاب الصلوة،باب صلوة المسافر، ج:2،ص:614)

ثم ‌الوطن ‌الأصلي يجوز أن يكون واحدا أو أكثر من ذلك بأن كان له أهل ودار في بلدتين أو أكثر ولم يكن من نيةأهله الخروج منها.(بدائع الصنائع،كتاب الصلوة،فصل في بيان مايصير به المسافر مقيما ،ج:1،ص:498)وقيل

وهذا جواب واقعة ابتلينا بها وكثير من المسلمين المتوطنين في البلاد، ولهم دور وعقار في القرى البعيدة منها يصيفون بها بأهلهم ومتاعهم فلا بد من حفظها أنهما وطنان له لا يبطل أحدهما بالآخر.( البحر الرائق ،كتاب الصلوة،باب المسافر،ج:2،ص:239)


فتویٰ نمبر : 11133/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں