بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

بغیر پڑھے طلاق نامہ پر دستخط کرنے سےوقوع طلاق


سوال

بیوی کی طرف سے خلع کا مطالبہ کیا گیا۔ خلع کی بنیاد پر سٹامپ پیپر بنوایا گیا، اس دوران شوہر کی نیت طلاق دینے کی ہرگز نہیں تھی، بلکہ ارادہ صرف خلع کا تھا۔ سٹامپ پیپر نویس نے خلع کے بجائے اس میں تین طلاقیں تحریر کر دیں۔ شوہر نے لاعلمی میں بغیر پڑھے اس پر دستخط یا انگوٹھا لگا دیا۔ نہ تو شوہر نے زبان سے طلاق کے الفاظ بولے اور نہ ہی وہاں موجود کسی گواہ نے وہ تحریر پڑھ کر شوہر کو سنائی۔ سٹامپ پیپر بننے کے بعد جب بڑے بھائی دفتر سے گھر آئے تو شوہر نے پوچھا کہ اس میں "ثلاثہ" لکھا ہے۔ شوہر نے بڑے بھائی سے پوچھا کہ ثلاثہ کا کیا مطلب ہے؟ تو بڑے بھائی نے بتایا کہ اس کا مطلب تین طلاقیں ہے۔ اس وقت بیوی حالتِ حیض میں تھی کیا اس صورت میں (جبکہ نیت خلع کی تھی، طلاق کی نیت نہیں تھی، شوہر نے نہ زبان سے بولا، نہ پڑھا، اور نہ کسی نے پڑھ کر سنایا، اور بیوی حالتِ حیض میں تھی) تین طلاقیں واقع ہو گئیں ؟

جواب

واضح رہے کہ کسی تحریر کو پڑھے بغیر، لاعلمی میں دستخط کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ البتہ اگر شوہر کو معلوم ہو کہ اس میں طلاق دینے کی بات لکھی ہے اور پھر اس نے دستخط کیے تو اس سے طلاق واقع ہو جائے گی۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر واقعتاً شوہر کی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی، بلکہ ارادہ صرف خلع کا تھا، اور شوہر نے پڑھے اور سنے بغیرلا علمی میں اس پر دستخط  کیا ہو یا انگوٹھا لگا دیا ہو، تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

 

وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه. (ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الطلاق،مطلب فی الطلاق بالکتابۃ،ج:3،ص:246)


فتویٰ نمبر : 7555/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں