بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

قرآن مجید کو سر پر اٹھا کر قسم کھانا


سوال

اگر کوئی شخص قرآن مجید کو سر پر اٹھا کر کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائے، لیکن بعد میں وہ اپنی قسم پوری نہ کر سکے اور قسم توڑ دے تو ایسی صورت میں اس کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا اس پر کفارہ لازم ہو گا، اور کفارہ قسم کس طرح ادا کیا جائے گا؟

جواب

قرآن مجید پر ہاتھ رکھنے سے یا سر پر اٹھانے سے قسم نہیں ہوتی جب تک اس کے ساتھ الفاظ قسم نہ کہے، مثلا:قرآن کی قسم یا کلام اللہ کی قسم یا قرآن کی طرف اشارہ کر کے کہے کہ اس میں جو کلام اللہ ہے اس کی قسم !اگر اس طرح کے الفاظ استعمال کرے تو قسم ہو جائے گی اور توڑنے کی صورت میں کفارہ واجب ہوگا۔

صورت مسئولہ میں  اگر کسی شخص نے صرف قرآن مجید سر پر اٹھا یا اور قسم کے الفاظ نہ کہے تو اس سے قسم منعقد نہ ہوگی۔ البتہ اگر قرآن مجید کو سر پر اٹھا کر قسم کے الفاظ استعمال کئے اور پھر اس قسم کو توڑ دیا، تو اس پر کفارہ قسم لازم ہو گا۔ قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا ئے یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار نصف صاع  گندم (یعنی پونے دو کلو) یا اس کی قیمت دے دے، یادس  فقیروں میں سے ہر ایک کو ایک ایک جوڑا کپڑا دے دے۔ اور اگر کھانا یا کپڑا دینے پر قدرت نہ ہو تو مسلسل تین روزے رکھے گا۔

 

قال اللہ تعالی: ﴿ لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمانِكُمْ وَلكِنْ يُؤاخِذُكُمْ بِما عَقَّدْتُمُ الْأَيْمانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعامُ عَشَرَةِ مَساكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمانِكُمْ إِذا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمانَكُمْ كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آياتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ (المائدة: 89 )

ولو أعطى مسكينا واحدا كله في يوم واحد لا يجزيه إلا عن يومه ذلك وهذا في الإعطاء بدفعة واحدة وإباحة واحدة من غير خلاف أما إذا ملكه بدفعات فقد قيل يجزيه، وقيل: لا يجزيه إلا عن يومه ذلك وهو الصحيح كذا في التبيين۔ ( الفتاوی الھندیۃ،  کتاب الطلاق ،  الباب العاشر فی الکفارۃ ،  ج:1، ص: 541 )

قال: محمد - رحمه الله تعالى - في الأصل لو قال: والقرآن لا يكون يمينا ذكره مطلقا، والمعنى فيه، وهو أن الحلف به ليس بمتعارف فصار كقوله وعلم الله، وقد قیل هذا في زمانهم أما في زماننا فيكون يمينا، وبه نأخذ، ونأمر، ونعتقد، ونعتمد.وقال: محمد بن مقاتل الرازي لو حلف بالقرآن قال: يكون يمينا، وبه أخذ جمهور مشايخنا رحمهم الله تعالى كذا في المضمرات (الفتاوى الهندية، كتاب الأيمان ، ج 2، ص :53)

وكفارته تحرير رقبة أو إطعام عشرة مساكين كهما في الظهار أو كسوتهم بما يستر عامة البدن فإن عجز عن أحدهما صام ثلاثة أيام متتابعة ۔(كتر الدقائق ، كتاب الأيمان ، ج:1 ، ص: 155)

كفارة اليمين عتق رقبة يجزي فيھا ما يجزي في الظهار وإن شاء كما عشرة مساكين كل واحد ثوبا فما زاد، وأدناه ما يجوز فيه الصلاة وإن شاء أطعم عشرة مساكين كالإطعام في كفارة الظهار ( فتح القدير ، كتاب الأيمان ، فصل في الكفارات ، ج 5، ص (80)


فتویٰ نمبر : 11137/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں