بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 14/10/2026

دارالافتاء

 

برائیوں کی روک تھام کے لیے اجتماعی بائیکاٹ اور مالی جرمانے کا حکم


سوال

ہماری قوم نے برائیوں (جیسے چوری، نقصان پہنچانے اور نشے وغیرہ) کی روک تھام اور اصلاحی مصالح کی خاطر یہ ضابطہ بنایا ہے کہ جو شخص ان برائیوں سے باز نہ آئے، اس کے ساتھ غمی و خوشی میں شرکت اور گھر جانے کا ترکِ تعلق کیا جاتا ہے ۔ نیز جو شخص ایسے بائیکاٹ شدہ افراد کے پاس جائے، اس پر قوم کی طرف سے 15,000 روپے مالی جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ یہ پابندی اس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ افراد برائیوں سے باز نہ آجائیں۔اب شرعاً یہ ترکِ تعلق کرنا اور اس پر مالی جرمانہ عائد کرنا کیسا ہے؟

 

جواب

واضح رہے کہ معاشرے کی اصلاح اور گناہوں کی روم تھام ایک نہایت ضروری امر ہےاس لئے جو شخص معاشرے کی بگاڑکاسبب ہواورگناہوں سے باز نہ آئے تو اس سے گناہوں سے باز آنے تک قطع تعلقی کرناجائز ہے۔ نیز یہ بھی واضح  رہے کہ معاشرے میں فساداور بگاڑپیداکرنے والے لوگوں  کے ساتھ تعلق قائم رکھنےوالے افراد پر مالی جرمانہ عائد کرنا موجودہ حالات کے پیش نظر جائزہےلیکن اس جرمانہ کولے کر خرچ کرنا جائز نہیں بلکہ اس شخص کے اس ممنوع کام سے رکنے تک ان پیسوں کو روکا جائےاورجب وہ باز آئےتوپھر واپس کردیاجائے۔ نیز یہ بھی واضح  ہوکہ تعزیر بالمال موجودہ حالات کے تناظرمیں اگرچہ جائز ہے، لیکن  اگر اس کی وصولی اور خرچ کرنے میں ظلم کا ارتکاب کیا جائے، تو اس سے روکا جائے گا۔

 

فتبين هنا السبب المسوغ للهجر، وهو لمن صدرت منه معصية، فيسوغ لمن اطلع عليها منه هجره عليها ليكف عنها.....، قال المهلب: غرض البخاري في هذا الباب أن يبين صفة الهجران الجائز، وأنه يتنوع بقدر الجرم، فمن كان من أهل العصيان يستحق الهجران بترك المكالمة كما في قصة كعب وصاحبيه.( فتح الباري،ج:10،ص:497)

(قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. ومثله في المعراج. (رد المحتار  علی الدرالمختار، ج:4، ص:61)

 (قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي .(رد المحتار  علی الدرالمختار، ج:4، ص:61)

يجوز التعزير بأخذ المال وهو مذهب أبي يوسف وبه قال مالك، ومن قال: إن العقوبة المالية منسوخة فقد غلط على مذاهب الأئمة نقلا واستدلالا وليس بسهل دعوى نسخها. (معين الحكام،ص:195)


فتویٰ نمبر : 6845/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں