بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 16/10/2026

دارالافتاء

 

60 سال پرانے کاروباری واجبات کی ادائیگی میں موجودہ مالیت کااعتبار


سوال

 سن 1966ء میں ہمارے بزرگوں کو کاروبار میں شدید مالی نقصان ہوا تھا۔ اس وقت کاروباری لین دین کے سلسلے میں بعض لوگوں کی رقوم، واجبات ان کے ذمہ تھے، لیکن شدید مالی نقصان اور مجبوری کی وجہ سے وہ ان واجبات کوادا نہ کر سکے۔ خاندانی حساب کتاب اور دستیاب یادداشت کے مطابق اس وقت یہ واجب الادا رقم لاکھوں روپے میں تھی۔ اب تقریباً 60 سال گزرنے کے بعد ہم ان کے ورثاء کی حیثیت سےاپنے بزرگوں کے ذمہ رہ جانے والے ان واجبات کو ادا کر کے ان کی ذمہ داری اور حقوق العباد سے متعلق اس معاملے کو حتی الامکان ادا کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ جن لوگوں کی یہ رقوم تھیں، ان میں سے اصل حق داران سےاب کوئی رابطہ  دستیاب نہیں، اور ان کے شرعی ورثاء کے بارے میں بھی کوئی قابل اعتماد معلومات یا رابطہ حاصل نہیں ہو پا رہا۔ لہذا قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں براہِ کرم درج ذیل امور کی وضاحت فرما دیں: 1۔اگر اصل حق داران اور ان کے شرعی ورثاء کو تلاش کرنے کی حتی الامکان کوشش کے باوجود ان کا کوئی سراغ نہ مل سکے، تو شریعتِ مطہرہ کے مطابق اس رقم کی ادائیگی کا کیا طریقہ ہوگا؟ کیا ایسی صورت میں یہ رقم اصل حق دار کی طرف سے مستحقِ زکوٰۃ فقراء و مساکین کو صدقہ کی جا سکتی ہے؟ اگر ہاں تو اس کا شرعی طریقہ کیا ہوگا؟ 2۔کیا ایسی رقم کو اصل حق دار کی طرف سے مسجد کی تعمیر یا مرمت مدرسہ، ہسپتال یا کسی دوسرے رفاہی و خیراتی کام میں خرچ کیا جا سکتا ہے؟ اگر اس کے لیے کوئی شرعی شرائط یا ترجیحات ہیں تو براہِ کرم ان کی بھی وضاحت فرما دیں۔ 3۔اس معاملے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ سن 1966ء میں جو رقم واجب الادا تھی، وہ آج تقریباً 60 سال بعد ادا کی جائے گی۔ اس صورت میں شرعاً واجب الادا رقم کا تعین کس بنیاد پر کیا جائے گا؟کیا صرف 1966ء کی اصل رقم ہی ادا کرنا لازم ہوگی؟یا پاکستانی روپے کی گزشتہ تقریباً 60 سال کے دوران قدر میں کمی / مہنگائی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے رقم میں اضافہ کرنا لازم ہوگا؟ 4۔یا اگر یہ فرض کیا جائے کہ اس پرانی لائبلٹی یا کاروباری نقصان کے بدلے میں کوئی زمین یاپلاٹ خریدا گیا تھا، تو کیا اب اس پرانے قرض کا حساب اس پلاٹ کی موجودہ فروخت شدہ قیمت کے حساب سے لگایا جائے گا یا اصل رقم کے حساب سے؟ شرعاً اس کا کیا طریقہ ہوگا؟یا شریعت میں اس صورتِ حال کے لیے کوئی دوسرا مخصوص اصول یا طریقہ حساب مقرر ہے؟ مزید یہ بھی ارشاد فرما دیں کہ اگر اصل رقم کا مکمل اور قطعی حساب دستیاب نہ ہو، بلکہ خاندانی حساب کتاب اور یادداشت کی بنیاد پر ایک تخمینی رقم معلوم ہو، تو ایسی صورت میں شرعاً کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟ 

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی کے ذمے لوگوں کا قرض ہواورعرصہ دراز تک قرض دار کےپاس قرض کی ادائیگی کی کوئی صورت نہ بن سکےاورعرصہ دراز گزرنے کے بعد اس قرض سے ذمہ فارغ کرناچاہے تو اگر قرض خواہان زندہ ہوں توان کوقرض واپس کیا جائے گااوراگر وفات پاچکے ہوں توان کے شرعی ورثہ کو واپس کیا جائےگااور اگر قرض خواہاں  زندہ نہ ہوں اوران کے ورثابهی معلوم نہ ہوں یاان کے ساتھ رابطے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوتووہ رقم ان کی جانب سےغرباء وفقراء پرصدقہ کیاجائےگا۔نیز یہ بھی واضح رہے کہ ایسی رقم میں چونکہ تملیک ضروری نہیں صدقہ کرنالازم ہوتاہے،اس لئےایسے پیسے کار خیر مثلاًمساجد ،مدارس،ہسپتالوں کی تعمیرات وغیرہ میں استعمال کرنا بھی جائز ہے۔نیز یہ بھی واضح ہو کہ قرض لی ہوئی رقم کی واپسی  میں ان پیسوں  کی مالیت گھٹنےیا بڑھنےکااعتبار نہیں ہوتابلکہ جتنی قرض لی ہو، اتنی ہی واپس کرناواجب ہوتاہے،واپسی کے دن کی مالیت کااعتبار نہیں ہوگا۔نیز یہ بھی واضح رہے کہ اگر دیون کی اصل مقدار معلوم نہ ہوتوتخمینہ اوراندازہ لگاکر ان کی مقدار متعین کی جائےگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق 1۔ اگر اصل حق داران یا ان کے شرعی ورثاء کو تلاش کرنے کے باوجود ان سےکوئی رابطہ نہ ہوسکےتو یہ رقم اصل حق دار ان کی طرف سے  فقراء و مساکین پر صدقہ کی جا ئے۔

2۔نیز ایسی رقم کو دوسرے رفاہ عامہ مسجد،مدرسہ،ہسپتال وغیرہ کی تعمیر میں استعمال کرنابھی جائزہے۔

3۔نیز یہ بھی واضح ہوکہ 1966ء میں جتنی رقم واجب الاداتھی ،ساٹھ سال بعدبھی اتنی ہی رقم واجب الاداہوگی ۔پاکستانی پیسوں کی مالیت میں کمی کی وجہ سے رقم میں اضافہ ضروری نہیں۔

4۔اگر کوئی زمین یاپلاٹ خریدا گیاتھا،اوراس کی رقم ادا نہ کی تھی تواب بھی وہی پرانی واجب الادارقم دینا ضروری ہوگا۔اس پلاٹ کی موجودہ قیمت کا اعتبار نہیں ہوگا ۔نیز یہ بھی واضح ہو کہ اگردیون کی اصل مقدارمعلوم نہ ہو تو تخمینے اوراندازے سے مقدار متعین کی جائے گی۔

 

عليه ديون لأناس لا يعرفهم من غصوب ومظالم وجبايات يتصدق بقدره على الفقراء على عزيمة القضاء إن وجدهم مع التوبة إلى الله تعالى فيعذر ولو صرف ذلك إلى الوالدين أو المولودين يصير معذورا وكذا في إزالة الخبث عن الأموال.( الفتاوى الهندية،ج:5، ص:367)

 (قوله: ورابعها فمصرفه جهات إلخ) موافق لما نقله ابن الضياء في شرح الغزنوية عن البزدوي من أنه يصرف إلى المرضى والزمنى واللقيط وعمارة القناطر والرباطات والثغور والمساجد وما أشبه ذلك.(ردالمحتار مع الدرالمختار،ج:2، ص:338)

والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم.(ردالمحتار مع الدرالمختار،ج:5،ص:99)

(عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله).(ردالمحتار مع الدر المختار،ج:4،ص:283)

واللقطة ان کانت واجبة التصدق لیست من الصدقات الواجبة،بل مصارفھا مصارف الصدقة النافلة حیث جاز ان یتصدق بھا علی فقیر ذمی.( اعلاء السنن، ج:13، ص:29)

الديون تقضی بامثالها.(شرح الاشباه والنظائر،كتاب المداينات،2/349)

رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم  غلاا سعرهافهل عليه ردمثلها؟ نعم ولا ينظر الى غلاء الدراهم ورخصها.(تنقيح الحامدية،باب القرض ،ج:1،ص:294)


فتویٰ نمبر : 6852/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں