بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کا سوئی گیس امام صاحب کا گھر میں استعمال کرنا


سوال

ہمارے محلے کی مسجد کو سوئی گیس لگایا گیا ہے لیکن اس گیس کی مسجد کو ضرورت نہیں، اب وہ سوئی گیس امام صاحب گھر میں استعمال کرتا ہے اور بل اپنی جیب سے ادا کرتا ہے کیا اس کے لئے اس گیس کا استعمال جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مسجد کے چندہ دہندہ گان اگر کسی خاص مصرف کےلیے چندہ دیں، تو شرعا اس کو اسی مد میں استعمال کر نا ضروری ہے۔ لیکن اگر چندہ دہندہ گان کسی خاص مصرف کی تعیین کئے بغیر چندہ دیں، تو اس کو عرف کے مطابق مسجد کے مصارف و مصالح میں خرچ کیا جاسکتا ہے۔

 صورت مسؤلہ کے مطابق امام کی ضروریات بھی مصالح مسجد میں سے ہیں عرف میں امام مسجد کے گھر میں گیس کا خرچ بھی مسجد کے مصالح میں شمار ہوتا ہے، لہذاامام مسجد کے لئے مسجد کا گیس کنکشن کا استعمال کرنا جائز ہے، بالخصوص جب کہ وہ بل بھی خود ادا کرتا ہو۔

 

وإذا أراد أن يصرف شيئا من ذلك إلى إمام المسجد أو إلى مؤذن المسجد فليس له ذلك، إلا إن كان الواقف شرط ذلك في الوقف۔ (الفتاوی الہندیۃ، كتاب الوقف ،الفصل الثانی في الوقف و تصرف القیم و غیرہ ج :2 ص :463 )

وبما ذكرناه علم أنه لو بنى بيتا على سطح المسجد لسكنى الإمام فإنه لا يضر في كونه مسجدا لأنه من المصالح۔(البحرالرائق،كتاب الوقف،قوله ومن جعل مسجدا تحته سرداب،ج:5،ص:421)


فتویٰ نمبر : 6839/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں