بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/10/2026

دارالافتاء

 

عورت کابہنوئی کےساتھ عمرے پرجانا


سوال

ایک عورت عمرے کا سفراپنی بہن کےخاوند کےساتھ کرسکتی ہےیا نہیں؟ جبکہ اس کی بہن بھی اس کےساتھ اس سفرمیں ہو۔

جواب

واضح رہےکہ کسی عورت کےلیےاپنےشوہریا کسی محرم کےبغیرسفرپرجانا جائزنہیں چاہےوہ حج یاعمرہ کا سفرہی کیوں نہ ہواورمحرم کسی عورت کا وہ رشتہ دارہوتا ہےجس کےساتھ ہمیشہ کےلئےنکاح حرام ہو۔

صورت مسئولہ کےمطابق کسی عورت کا اپنی بہن کےخاوند کےساتھ عمرے پرجاناناجائزہےچاہےوہ بہن بھی ساتھ ہوکیونکہ بہنوئی محرم نہیں ہوتا۔ 

 

 (ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزا إذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط، وإن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم كذا في البدائع والمحرم الزوج، ومن لا يجوز مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة كذا في الخلاصة. (الفتاوى الهندية، کتاب المناسک، الباب الاول في تفسيرالحج وفرضيته ووقته وشرائطه وأرکانه، ج:1،ص:282)


فتویٰ نمبر : 11118/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں