بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

سات تولہ سونا کے ساتھ ایک لاکھ نقدی میں زکاۃ


سوال

میری بہن کے پاس 7 تولہ سونا اورنقد ایک لاکھ روپے ہیں کیا اس پر زکاۃ فرض ہے؟ میں نے سنا ہےکہ جب دو مختلف نصاب موجود ہوں،تو اس میں زکاۃ کے وجوب کے لیےصاحبین کا موقف ضم بالاجزا کا ہے۔ اس پر عمل بھی کیا جاسکتا ہے ۔

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے کسی شخص کے اوپر وجوب زکوٰۃ کے لیے ساڑھے سات تولے سونا ، یا ساڑھے باون تولے چاندی ، یا ساڑھے باون تولے چاندی کے بقدر نقدی یا مال تجارت کا مالک ہونا ضروری ہے، اگر ان میں سے کوئی نصاب بھی مکمل نہ ہو البتہ دو ناقص نصاب موجود ہوں،یعنی کچھ سونا اور چاندی ہو، یا  کچھ ما ل تجارت ہو، یا نقد رقم ہو، تو ایسی صورت میں ان کو باہم ملا کر دیکھا جائےگا کہ یہ نصاب تک پہنچتے ہیں یا نہیں؟ پھر   امام ابو حنیفہ ؒکے ہاں دونوں ناقص نصابوں کی قیمت باہم ملائی جائے گی، جبکہ صاحبین ؒ کے نزدیک قیمت کے بجاۓ اجزاء کےاعتبار سے باہم ملایا جائے گا، موجودہ دور میں ضم بالقیمۃ میں حرج کی وجہ سے ضم بالاجزاء  پر عمل کیاجاسکتاہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل کی بہن کے پاس سات تولہ سونا اورايک لاکھ نقدی ہو، توضم بالاجزاء کےاعتبار سے نصاب پورا ہونے کے لیے سات تولہ سونا کے ساتھ ساڑھے تین تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابرنقدی یا سامانِ تجارت کا ہونا ضروری ہے اورآج (5اکتوبر2026ء) بازار میں ساڑھے تین تولہ چاندی کی قیمت تقریباََ 23280بنتی ہے،لہذا اگرسات تولے کےعلاوہ نقد رقم ایک لاکھ روپےموجود ہو،تو زکوٰۃ فرض ہوگی۔

 

ويضم الذهب إلى الفضة، والفضة  إلى الذهب، ويكمل إحدى النصابين بالآخر عند علمائنا... ثم قال أبو حنيفة: يضم باعتبار القيمة... وقال أبويوسف ومحمد: يضم باعتبار الأجزاء يعني به الوزن.(الفتاوى التاتارخانية، كتاب الزكوة، فصل في زكوة المال، ج:3، ص:158)


فتویٰ نمبر : 11123/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں