بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 29/10/2026

دارالافتاء

 

شہر کے دو راستے ہونے کی صورت میں قصر نماز پڑھنا


سوال

اگر کسی شہر تک پہنچنے کے لیے دو راستے ہوں، جن میں ایک راستہ مختصر ہو اور اس کا فاصلہ مسافتِ قصر سے کم ہو، جبکہ دوسرا راستہ طویل ہو اور اس کا فاصلہ مسافتِ قصر سے زیادہ ہو، تو اگر کوئی شخص اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے مختصر راستہ اختیار کرے، تو کیا وہ نماز قصر کرے گا یا پوری (اتمام) پڑھے گا؟

جواب

اگر کسی جگہ جانے کے لیے دو راستے ہوں، جن میں ایک طویل ہو کہ  اس کا فاصلہ مسافتِ شرعی کے برابر یا اس سے زائد ہو، جبکہ دوسرا راستہ مختصر، مسافتِ شرعی سے کم ہو، تو جو شخص مختصر راستہ اختیار کرے گا، وہ شرعاً مسافر شمار نہیں ہوگا،کیونکہ اس کا سفر مسافتِ شرعی تک نہیں پہنچا۔ لہٰذا اس پر نماز پوری پڑھنا لازم ہوگی اور قصر کا حکم لاگو نہیں ہوگا۔البتہ اگر کوئی شخص  طویل راستہ اختیار کرے، اور اس راستے کا فاصلہ مسافتِ شرعی کے برابر یا اس سے زیادہ ہو جائے، تو وہ شرعاً مسافر شمار ہوگا اور اس پر نماز میں قصر کرنا لازم ہوگا۔

 

فاذا قصد بلدة وإلی مقصدہ طریقان أحدھما مسیرة ثلاثة أیام ولیالیھا والآخر دونھا، فسلک الطریق الأبعد کان مسافرا عندنا وإن سلک الأقصر یتم کذا في البحر.(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر فی صلاة المسافر، ج:1، ص:138)


فتویٰ نمبر : 11125/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں