بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

منبر کی شرعی حیثیت اور منبر کے بغیر خطبہ دینے کا حکم


سوال

شریعت میں منبر کی کیا حیثیت ہے؟ کیا خطبہ منبر پر کھڑے ہوئے بغیر دینا جائز ہے، اور ایسی صورت میں خطبہ ادا ہو جائے گا یا نہیں؟ نیز سنت کے مطابق منبر محراب کے کس طرف ہونا چاہیے؟

جواب

احادیث مبارکہ میں مذکور ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنے لیے منبر بنوایا تھا۔حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری عورت نے جناب رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ! میرا غلام بڑھئی کے پیشے سے وابستہ ہے۔ کیا میں آپ کے لیے کوئی ایسی چیز نہ بنا ؤں جس پر آپ بیٹھ جایا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم چاہو تو بنواسکتی ہو۔‘‘چنانچہ اس عورت کے غلام  نے آپ کے لیے مدینہ کے قریب غابہ سے جھاؤ کی لکڑی  سے منبر تیار کیا، جس میں تین سیڑھیاں تھیں اور جب جمعہ کا دن آیا تو نبی کریم ﷺ اس منبر پر تشریف فرما ہوئے۔اس روایت سے معلوم ہوا کہ منبر کا ثبوت خود رسول اللہ ﷺ سے  موجود ہے۔ اس لئے مسجد میں منبر کا ہونا اور اس پر کھڑے ہو کر خطبہ دینا سنت ہے ۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے لے کر موجودہ دور تک یہ سنت مسلسل رائج ہے،اگر مسجد میں باقاعدہ منبر نہ ہو تو کوئی اونچی چیز رکھ کر اس پر کھڑے ہوکر خطبہ دینا چاہیے۔ البتہ منبر کا ہونا جمعے کے خطبے کے لیے شرط نہیں ہے، لہذا اس کے بغیر بھی خطبہ کا وجوب ادا ہوجائے گا۔نیز محراب  میں امام قبلہ رخ  کھڑا ہو تواس کے دائیں جانب منبر ہونا چاہیے،یا بالفاظ  دیگر جب امام منبر پر کھڑا خطبہ دے رہا ہو تو محراب اس کے دائیں جانب ہو۔

 

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما:أن امرأة من الأنصار، قالت لرسول الله صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله، ألا أجعل لك شيئا تقعد عليه، فإن لي غلاما نجارا. قال: (إن شئت). قال: فعملت له المنبر، فلما كان يوم الجمعة، قعد النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر الذي صنع، فصاحت النخلة التي كان يخطب عندها، حتى كادت تنشق، فنزل النبي صلى الله عليه وسلم حتى أخذها فضمها إليه، فجعلت تئن أنين الصبي الذي يسكت، حتى استقرت، قال: (بكت على ما كانت تسمع من الذكر). (صحيح البخاري، كتاب البيوع، باب: النجار،ج:2، ص:738، رقم الحديث:1989)

(قوله المنبر) بكسر الميم من النبر وهو الارتفاع. ومن السنة أن يخطب عليه اقتداء به صلى الله عليه وسلم بحر وأن يكون على يسار المحراب قهستاني، ومنبره صلى الله عليه وسلم كان ثلاث درج غير المسماة بالمستراح.(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج:2، ص:136)


فتویٰ نمبر : 11126/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں