بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

زمین اور جانور دے کر نفع میں حصہ مقرر کرنا


سوال

ایک شخص نے دوسرے آدمی کو اپنی زمین اور جانور دونوں دے کر اس سے یہ کہا کہ جانوروں کو اسی زمین سے چارہ  کھلا ؤاور جب جانور بچے جنیں گے اور ان کو فروخت کیا جائے گا، تو اس میں سے ثلث تمہارا ہوگا اور باقی میرا ہوگا۔' تو کیا یہ معاملہ جائز ہے؟

جواب

واضح رہےکسی کو جانور پالنے  کے لیے  دینا شرعا  اجارہ کا معاملہ ہےاور اجارہ کے معاملے میں  شرعا  اجرت کا متعین ہونا ضروری ہے، اجرت متعین کیے بغیر معاملہ درست نہیں ہوتا۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے دوسرے آدمی کو اپنی زمین اور جانور دونوں دے کر اس سے یہ کہا کہ جانوروں کو اسی زمین سے چارہ  کھلا ؤاور جب جانور بچے جنیں گے اور ان کو فروخت کیا جائے گا، تو اس میں سے ثلث تمہارا ہوگا اور باقی میرا ہوگا تو یہ اجارہ فاسد ہ ہےکیونکہ اس میں اجرت متعین نہیں ۔اس کی جائز صور ت یہ ہوگی کہ جانور پالنے والے کو جانور پالنے کے لیے دےاور اس  کے لیے جانور پالنے کی اجرت متعین کی جائے۔

 

رجل دفع بقرةً إلى رجل بالعلف مناصفةً، وهي التي تسمى بالفارسية "كاونيم سوو" بأن دفع على أن ما يحصل من اللبن والسمن بينهما نصفان، فهذا فاسد، والحادث كله لصاحب البقرة، والإجارة فاسدة.(خلاصة الفتاوی،کتاب الإجارة، الجنس الثالث في الدواب،ج:3،ص:114)


فتویٰ نمبر : 4247/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں