بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/10/2026

دارالافتاء

 

شوہر کےظلم وزیادتی اور نان نفقہ نہ دینے کی صورت میں عدالت کا یکطرفہ تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کرنا


سوال

ایک عورت مسماۃ عظمیٰ  کا نکاح مورخہ 31.03.2017 کو  نصیر احمد کے ساتھ ہوا رخصتی اسی دن عمل میں آئی، "اس کے بعد اس ازدواجی تعلق سے ایک بیٹی بھی پیدا ہوئی، "  شادی کے بعد، مذکورہ  عورت شوہر کے ساتھ مقیم رہی اور اپنے تمام ازدواجی فرائض دیانتداری اور لگن کے ساتھ ادا کرتی رہی تاہم شوہر  کا رویہ اور سلوک اس کے ساتھ لاپرواہ، بے حسی پر مبنی اور غیر ذمہ دارانہ رہا، اور وہ مسلسل ان کا نفقہ (خرچ) اٹھانے میں ناکام رہا۔" شادی کے آغاز ہی سے، شوہر کے رویے کے باعث اس کو ایک مصیبت زدہ، پریشان کن اور غیر محفوظ ازدواجی زندگی گزارنے پر مجبور ہونا پڑا۔"اور جب بھی اس سے  اپنے  ماہانہ نفقے کا مطالبہ کیا، ، تو اس نے جارحانہ رویہ اختیار کیا، اور بیوی  کو ذہنی اذیت دیتا رہا، اور متعدد مواقع پر اس پر جسمانی تشدد بھی کیا۔"  ان مجبور کن حالات کی بناء پر مذکورہ عورت نے عدالت میں تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کرنے کے لیے مقدمہ دائر کیا،  عدالت نے شوہرکو  حاضر ہونے کے لیے سمن بھیجے، لیکن وہ حاضر نہ ہوا اب عدالت نے اس کے لیے یکطرفہ طور پر تنسیخ نکاح کی  ڈگری جاری کی ہے، تو کیا یہ ڈگری شرعا معتبر ہوگی یا نہیں؟ اور مذکورہ عورت دوسرے شخص کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟

 

جواب

اگر میاں بیوی  کے درمیان ناچاقی کی صورت ہویا شوہر بیوی پر ظلم کرتا ہو جس کی وجہ سے  وقت گزارنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں بیوی اپنے شوہر سے خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے ،لیکن  شریعت میں خلع دینے کا حق  صرف شوہر کو حاصل ہے ،اس لیے کوئی شخص یا کوئی ادارہ  کسی کی بیوی کو صرف نفرت اور بیزاری کی بنا پر  خلع کی ڈگری جاری  نہیں کر سکتا ۔ تاہم اگر  شوہر متعنت ہو یعنی  بیوی  کے ساتھ  ظلم  و زیادتی کرتا ہو ، اور اس کے حقوق ادا نہ کرتا ہو، نہ ہی طلاق یا خلع دیتا ہو،  تو عورت عدالت میں مقدمہ دائر کرسکتی ہے ، پھرعدالت اگر پوری تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ شوہر واقعی متعنت ہے بیوی پر ظلم کرتا ہے اس کو نان نفقہ نہیں دیتا اور اس کو آزاد  بھی نہیں کرتا ، تو عدالت عورت کو تنسیخِ نکاح کی ڈگری جاری کر سکتی ہے،  اس کے بعد بیوی مطلقہ شمار ہوگی اور عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ شادی کرسکے گی۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی  مذکورہ  عورت کاشوہر اس کے ساتھ ظلم وزیادتی  اور تعنت کا مرتکب رہا ہو، اس کو نفقہ بھی نہیں دے رہااور پھرعدالت کے نوٹس ملنے کے باوجود حاضر نہ ہوا ہو، تو عدالت کی جاری کردہ تنسیخ ِ نکاح کی ڈگری نافذ ہوگی ، اور اس  سے وہ مطلقہ شمار ہوگی ،  چنانچہ عدت گزارنے کے بعد  دوسری جگہ نکاح جائز ہوگا۔

 

وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق، ففي مجموع الأمير ما نصه إن منعها نفقة الحال، فلها القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق عليه، قال محشيه: قوله:وإلا طلق أي طلق عليه الحاكم من غير تلوم. ( الحيلة الناجزة، ص:133)

والخلع ‌جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد. (المبسوط للسرخسي، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج:6، ص:173)


فتویٰ نمبر : 7541/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں