بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/10/2026 |
دارالافتاء
گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ دینے کا طریقہ کار اور غریب ہونے کی صورت میں زکوٰۃ کا ساقط نہ ہونا
سوال
اگر کسی آدمی کے پاس کئی سال پہلے نصاب کے برابر پیسے تھے اس پر کئی سال گزرے تو وہ زکوۃ کیسے ادا کرے گا ؟نیز اگر وہ صاحب نصاب شخص ابھی غریب ہو چکا ہو تو کیا اس پر گزرے ہوئے سالوں کی زکوۃ دینا واجب ہے یا نہیں ؟
جواب
اگر کسی کے پاس نصاب کے بقدرمال موجود ہو اور اس پرسال گزر جائے تو اس پر ڈھائی فیصد زکوۃ واجب ہوجاتی ہے۔اگر صاحب نصاب بننے کے بعد کئی سالوں کی زکوۃ ادا نہ کی ہوتو گزشتہ سالوں کی زکوۃ بھی ادا کرے گا۔جس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے سال کی زکوۃ کے لیے اس سال موجود تمام اموال زکوۃ (سونا ،چاندی،نقدی اور مال تجارت)سے ڈھائی فیصد کا حساب لگائے گا، پھر اگلے سال، گزشتہ سال کی زکوٰۃ کی رقم کو منہا کرنے کے بعد جو مال باقی بچے (خواہ اس میں اضافہ ہوا ہو یا کمی)، اس کے ڈھائی فیصد کا حساب لگائے گا۔اسی طرح ہر سال کی زکوۃ کا حساب لگانے کے لیے اس سے پچھلے سال کی زکوۃکی رقم کو منفی کرکے بقیہ مال کے ڈھائی فیصد کا حساب لگایا جائے گااور پھر تمام سالوں کی واجب شدہ زکوۃ کو ادا کیا جائےگا۔ یہ طریقہ اس صورت میں ہے جب ہر سال کی مالیت معلوم ہو؛ اگر مالیت معلوم نہ ہو تو غالب گمان کے مطابق جتنی مالیت بنتی ہو، اسی کی زکوٰۃ ادا کرے۔ اگر کسی نے گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا نہ کی ہو اور غریب ہو جائے تب بھی اس کے ذمے گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ لازم ہوگی۔
الأخذ بالاحتياط في العبادات أصل۔ (المبسوط للسرخسي، 1/ 246)
وبيان ذلك أنه إذا كان لرجل مائتا درهم أوعشرين مثقال ذهب فلم يؤد زكاته سنتين يزكي السنة الأولى وليس عليه للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة ... وكذا هذا في مال التجارة.(بدائع الصنائع،كتاب ،1387/)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں