بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

عورت کی وفات کے بعد اُسے شوہر سے ملنے والے حصۂ میراث کے مستحقین


سوال

اگر کسی شخص کی اولاد نہ ہو، اس کے مرنے کے بعد اس کی میراث اس کی  بیوی کومنتقل ہو جائے تو بیوی کے انتقال کے بعد اس کو شوہر کی میراث سے ملنے والا مال و جائیداد شوہر کے رشتہ داروں کو ملے گا یا اس بیوی کے اپنے رشتہ داروں کو؟

 

جواب

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں میراث کے احکام اور ورثا کے حصوں کی تفصیل نہایت وضاحت کےساتھ بیان کی ہے، چنانچہ میراث کو انہی حصوں کےمطابق تقسیم کرنا فرض ہے۔ غیر شرعی طریقے سے تقسیم کرنا جائز نہیں بلکہ اللہ تعالی کے مقرر کردہ حصوں سے ہٹ کرتقسیم کرنا کبیرہ گناہ ہے، جس پر سخت وعیدات آئی ہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق بیوی کے وفات ہونے کے بعد اس کی ملکیت میں جو بھی مال و جائیداد ہو، خواہ وہ اسے شوہر کی میراث سے ملی ہو یا کسی اور ذریعہ سے وہ تمام مال و جائیداد اس مرحومہ کے اپنے ورثا کو ملےگا۔ شوہر کے رشتہ داروں کو نہیں۔

 

ويستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والوارثون أصناف ثلاثة: أصحاب الفرائض والعصبات وذوو الأرحام، كذا في المبسوط. (الفتاوى الهندية، كتاب الفرائض، ج:6، ص:440، مكتبة:دار الكتب العلمية بيروت)


فتویٰ نمبر : 3873/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں