بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

مدت اجارہ سےقبل عقدِ اجارہ ختم کرنے میں مستأجرکی فصل کے نقصان کاضمان


سوال

جب زرعی زمین ہو اور اس میں مستأجر فصل کاشت کرتا ہو اورکئی سالوں کے لیےزمین اجارہ پر لی ہو، مقررہ وقت سے پہلے عقدِ اجارہ ختم کرنے میں مستأجرکی فصل اور باغ کو نقصان ملتا ہوتو اس نقصان کی ازالے کی کیا صورت ہوگی؟

 

جواب

 واضح رہےکہ اپنی ملکیتی زمین کسی کو متعین مدت تک ،متعین اجرت کے عوض اجارہ پر دینا شرعاً جائز ہے۔نیز یہ بھی واضح رہے کہ اجارہ ایک عقد لازم ہے جسےدوسرے عاقد کی رضامندی کے بغیر فسخ کرناجائز نہیں ہےالبتہ عذر شرعی کے بناپریک طرفہ طورپر فسخ کرنا جائزہے لیکن دوسرے عاقد کو اطلاع دینا ضروری ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر مستاجرنےموجرسے کئی سالوں کےلئے زمین اجارے پر لی ہواور زمین زرعی ہو اور اس میں مستأجرنے فصل یاباغ کاشت کیاہو تو بغیر کسی شرعی عذر کےمقررہ وقت سے پہلے عقدِ اجارہ ختم کرناجائز نہیں ،اگرمالک اپنی طرف سےا جارہ ختم کرے تب بھی ختم نہ ہوگااورکرایہ دار کو مدت کے آخر تک زمین میں اپنی فصل باقی رکھنے کاحق حاصل ہوگا۔

 

وأما صفة الإجارة فالإجارة عقد لازم إذا وقعت صحيحة عرية عن خيار الشرط والعيب والرؤية عند عامة العلماء، فلا تفسخ من غير عذر. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،فصل في صفة الإجارة، ج:4،ص: 201)

الإجارة تنقض بالأعذار عندنا وذلك على وجوه إما أن يكون من قبل أحد العاقدين أو من قبل المعقود عليه وإذا تحقق العذر ذكر في بعض الروايات أن الإجارة لا تنقض وفي بعضها تنقض، ومشايخنا وفقوا فقالوا: إن كانت الإجارة لغرض ولم يبق ذلك الغرض أو كان عذر يمنعه من الجري على موجب العقد شرعا تنتقض الإجارة من غير نقض. (الفتاوى الهندية،ج:4،ص:458)

وإن فسخها في غياب الآجر دون أن يخبره لم يعتبر فسخه وكراء المأجور يستمر كما كان قبل الفسخ لأن عقد الإجارة لم يزل باقيا والمستأجر مقتدر على استيفاء المنفعة مع ذلك التغيير أي النقص.(دررالحکام،ج:1،ص:595)

والحاصل أن كل عذر لا يمكن معه استيفاء المعقود عليه إلا بضرر يلحقه في نفسه أو ماله يثبت له حق الفسخ.(ردالمحتار مع الدر المختار،ج:6،ص:81)


فتویٰ نمبر : 4240/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں