بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

باپ کی زندگی میں مرنے والے بیٹے کا میراث میں حصہ


سوال

قدرت الله مرحوم 1974 میں فوت ہوا ہے اس کے دو بیٹے تھے حضرت الله اور جواد الله . جواد الله اپنے والد کی زندگی میں 1954 کو فوت ہوا تھا  جب کہ حضرت اللہ اپنے والد قدرت اللہ کی وفات کے وقت زندہ موجود تھا۔ کیا شریعت میں قدرت اللہ کی وراثت میں  جواد اللہ کا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے  کہ والد کی زندگی میں فوت ہونے والا بیٹا والد کی میراث کا مستحق نہیں ہوتا۔ لہذا صورت مسئولہ میں بشرط صدق وثبوت اگر جواد الله اپنے والد قدرت اللہ  کی زندگی میں وفات پا چکا تھا تو اُس کا  قدرت اللہ   کی  میراث میں کوئی حصہ نہیں بنتا۔

 

وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ‌ووجود ‌وارثه ‌عند ‌موته ‌حيا ‌حقيقة ‌أو ‌تقديرا. (رد المحتار علی الدر المختار، 6/ 758)


فتویٰ نمبر : 3869/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں