بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

قرانی آیات کے ذریعےعلاج کرنا


سوال

کچھ لوگ کسی بیماری سے شفا حاصل کرنے کے لیے کاغذ پر قرآنِ کریم کی آیات لکھ کر مریض کو وہ کاغذ چبانے اور نگلنے کا کہتے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے شفا حاصل ہو جاتی ہے۔ کیا قرآنِ کریم کی آیات لکھے ہوئے کاغذ کو چبا کر نگلنا گستاخی یا گناہ کے زمرے میں آتا ہے؟ نیزاس طرح کے دم کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا شریعت میں اس کی کوئی گنجائش ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

جواب

واضح رہے کہ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا مقدس کلام ہے،اور اس کے ذریعے بیماریوں سے شفا حاصل کرنا جائز ہے۔ نبی کریم ﷺ بذات خود معوذتین اپنےآپ پر دم فرمایاکرتےتھے۔ اسی طرح صحابہ کرام رضی  اللہ عنہم سےآیات قرانی کےذریعےعلاج کے متعلق احادیث اورآثار ثابت ہیں۔ لہٰذا قرآنِ کریم کی آیات اور مسنون دعاؤں کے ذریعے دم کرنا شرعاً جائز ہے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر کسی بیماری کے علاج کے لیے کاغذ پر قرآنی آیات لکھ کر مریض کو کاغذ چبانےاورنگلنےکاکہا جائےتواگراس کوسنت یا لازم نہ سمجھاجائےمحض علاج سمجھاجائے،تواس کی گنجائش ہے۔تاہم اس کی بجائے قرآنِ کریم کی آیات پڑھ کرمریض پردم کرناذیادہ بہتر طریقہ علاج ہے،کیونکہ وہ سنت سےثابت ہے۔

 

عن عروة، عن عائشة رضي الله عنها: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان ينفث على نفسه في المرض الذي مات فيه بالمعوذات، فلما ثقل كنت أنفث عليه بهن وأمسح بيد نفسه لبركتها، فسألت الزهري: كيف ينفث؟ قال: كان ينفث على يديه ثم يمسح بهما وجهه. (صحيح البخاري،كتاب الطب،ج: 7،ص:131،رقم الحديث:5735)

قال الكرماني: وكان حقه أن يقول: والمعوذتين لأنهما سورتان فجمع إما لإرادة هاتين السورتين وما يشبههما من القرآن، أو باعتبار أن أقل الجمع اثنان، ويقال: المراد بالمعوذات: سورة الفلق والناس وسورة الإخلاص لأنه جاء في بعض الروايات أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يرقي بسورة الإخلاص والمعوذتين، وهو من باب التغليب.(عمدة القاري شرح صحيح البخاري،ج:21،ص:262)

واختلف في الاسترقاء بالقرآن نحو أن يقرأ على المريض والملدوغ أو يكتب في ورق ويعلق أو يكتب في طست فيغسل ويسقى المريض فأباحه عطاء ومجاهد وأبو قلابة وكرهه النخعي والبصري كذا في خزانة الفتاوى.(الفتاوى الهندية،ج:5،ص:356)


فتویٰ نمبر : 6835/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں