بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

ایڈوانس کرایہ کی مختلف صورتیں


سوال

ہمارے علاقے میں دکاندار حضرات دکان کے مالک کو پیشگی رقم  دیتے ہیں اور اس سے دکان کرایہ پر لیتے ہیں اس عقد کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں، پہلی یہ کہ ایک دکان جس کا عرف میں مہینے کا کرایہ دس ہزار (10000) افغانی ہے، دکان کا مالک اسے دوسرے شخص کو دس ہزار افغانی کرائے پر ہی دیتا ہے اور کرائے کے علاوہ اس سے دو لاکھ (200000) افغانی پیشگی بھی لیتا ہے، پھر جب بھی کرایہ دار دکان چھوڑنے کا ارادہ کرے تو وہ اپنے پیسوں کا کہتا ہے اور مالک اسے وہ رقم واپس کر دیتا ہے۔ دوسری یہ کہ وہی دکان مہینے کا دس ہزار (10000) افغانی کرائے پر دیتا ہے اور دو لاکھ پیشگی بھی لیتا ہے، البتہ پیشگی میں سے ہر مہینے پانچ ہزار (5000) کرایہ شمار کرتا ہے اور پانچ ہزار (5000) اس سے نقد لیتا ہے۔ تیسری یہ کہ وہی دکان جو عرف میں کرایہ دس ہزار (10000) افغانی پر دیا جاتا ہے، پیشگی کی وجہ سے اسے پانچ ہزار (5000) افغانی کرائے پر دیتا ہے اور جب کرایہ دار دکان چھوڑ دے تو وہ اپنی پیشگی کی پوری رقم بھی لے لیتا ہے۔ ان تینوں صورتوں کا حکم واضح کریں۔

جواب

کوئی دکان یا مکان وغیرہ  کرایہ پر دینے والے کو بعض اوقات یہ  خطرہ ہوتا ہے  کہ  کرایہ دار   دکان  یا گھر وغیرہ کو نقصان پہنچا کر یا بجلی اور گیس وغیرہ کا بل چھوڑ کر بھاگ نہ جائے،تو وہ اس خطرہ کے پیش نظرمستاجر سے ایڈوانس رقم  بطور سیکیورٹی لیتا ہے، یہ ایڈوانس رقم لینا جا ئز ہے، اور عرف میں اس کے استعمال کی اجازت  ہوتی ہے اس لیے یہ قرض کے حکم میں ہے۔

صورت مسئولہ میں پہلی دو صورتیں تو جائز ہیں، اور تیسری صورت جائز نہیں کیونکہ  اس میں ایڈوانس رقم  کی بنا پرکرایہ مارکیٹ ریٹ سے کم مقرر کیا جاتاہے، اور یہ قرض سے فائدہ اٹھانا ہے۔ اس لئے یہ شرعا سود کے زمرہ میں داخل ہوکر ناجائز ہے۔

 

أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن قرض جر نفعا. (بدائع الصنائع، كتاب القرض، ج:7، ص:395)

وأما الربا فهو ثلاثة أوجه:أحدها في القروض، والثاني في الديون، والثالث في الرهون، الربا في القروض:فأما في القروض فهو على وجهين:أحدها أن يقرض عشرة دراهم بأحد عشر درهما، أو باثني عشر ونحوها، والآخر أن يجر إلى نفسه منفعة بذلك القرض، أو تجر إليه وهو أن يبيعه المستقرض شيئا بأرخص مما يباع، أو يؤجره، أو يهبه.....ولو لم يكن سبب ذلك هذا القرض لما كان ذلك الفعل؛ فان ذلك ربا. ( النتف في الفتاوى، كتاب الولاء، ‌‌أنواع الربا، ج:1، ص:485)


فتویٰ نمبر : 4234/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں