بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

چرس میں زکوۃ كا حكم


سوال

ایک شخص نے بھنگ کی کاشت کی تھی اس بھنگ سے آٹھ کلو چرس نکلا۔ اس وقت اس نے عشر نکالا تھا۔ لیکن وہ آٹھ کلو چرس اب بھی اس کے پاس پڑا ہے۔ اور اس پر سال گزر گیا ہے کیا اب اس چرس پر سالانہ زکوۃ آئے گی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ چرس ایک نشہ آور اور مضر صحت چیز ہے اور نشہ آور چیز حرام ہوتی ہے۔ اس لیےاس کی خرید و فروخت جائز نہیں اور نہ ہی اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے۔ نیز حرام مال میں زکوۃ واجب نہیں۔

صورت مسئولہ میں چونکہ چرس ایک نشہ آور اور حرام چیز ہے اس لیے اس میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی۔ بلکہ اس کو ضائع کرنے کا حکم ہے۔

 

عن ابن عمر. قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "كل مسكر خمر. وكل مسكر حرام. ومن شرب الخمر في الدنيا فمات وهو يدمنها، لم يتب، لم يشربها في الآخرة". (صحيح مسلم،كتاب الأشربة، باب بيانه أنه كل مسكر خمر،وأنه كل خمرحرام، رقم الحديث:2003،ج:3، ص:1587)

(قوله: كما لو كان الكل خبيثا) في القنية لو كان الخبيث نصابا لا يلزمه الزكاة؛ لأن الكل واجب التصدق عليه فلا يفيد إيجاب التصدق ببعضه. (ردالمحتارعلی الدرالمختار، كتاب الزكاة، باب زكاة الغنم، ج:3، ص:218)


فتویٰ نمبر : 11104/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں