بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 28/10/2026

دارالافتاء

 

"تم میرے بھائی کے گھر گئی تو تم مجھ سے آزاد ہوگی "تين بار کہنا


سوال

ایک شخص نے فون پر اپنی بیوی سے کہا  کہ اگر" تم میرے بھائی کے گھر گئی تو تم مجھ سے آزاد ہوگی "۔یہ بات اس نے تین دفعہ صراحت کے ساتھ دہرائی ۔اب وہ عورت اس کے بھائی کے گھر چلی گئی ہےتو کیا اس سے ایک طلاق بائن واقع ہوگی یا  تین طلاقیں واقع   ہوتی  ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ لفظِ "آزاد "بذاتِ خود اگر چہ کنائی ہے، تاہم عرف میں یہ لفظ طلاق ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے ، اس لیے فقہائے کرامؒ نے اس کو طلاقِ صریحی میں شمار کرکے  اس سے طلاق رجعی واقع ہونے کا قول کیا ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے تین مرتبہ یہ  کہا کہ اگر " تم میرے بھائی کے گھر گئی تو تم مجھ سے آزاد ہوگی "اور بیوی اپنے شوہر کے بھائی کے گھر چلی گئی  ہوتو اس سے تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔

فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق.(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الطلاق،باب الکنایات،ج:3،ص:299)

وإذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح.(فتح القدير،كتاب الطلاق، باب الأيمان في الطلاق،ج:4،ص:114)


فتویٰ نمبر : 7534/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں