بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 23/10/2026 |
دارالافتاء
تاخیر سے جمعہ قائم کرنے والی مساجد کے نمازیوں پر سعی الی الجمعہ
سوال
ہمارے گاؤں (درازندہ، ضلع ڈیرہ اسماعیل خان) کی سات مساجد میں جمعہ کی نماز قائم کی جاتی ہے۔ ان میں سے چار مساجد میں خواہ موسم گرما ہو یا سرما جمعہ کی نماز ایک بجے سے لے کر ڈیڑھ بجے (1:30) کے درمیان پڑھائی جاتی ہے، جبکہ باقی تین مساجد میں خصوصاً موسمِ گرما میں تین بجے سے ساڑھے تین (3:30) بجے کے درمیان ادا کی جاتی ہے۔ظاہر بات ہے کہ جن مساجد میں نمازِ جمعہ تاخیر (ابراد) سے پڑھی جاتی ہے، ان میں اذانِ اول بھی تاخیر سے دی جاتی ہے؛ جس کی وجہ سے ان محلوں کے مکین اپنے محلے کی اذانِ اول تک دنیاوی کاموں (خرید و فروخت، دکانداری وغیرہ) یا نیند اور گپ شپ میں مصروف رہتے ہیں۔مفتیٰ بہ قول کے مطابق جمعہ کی اذانِ اول کا وقت زوال کے فوراً بعد شروع ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ فتاویٰ عثمانی (جلد 1، صفحہ 536) میں درج ہے: "حنفیہ کے نزدیک جمعہ کے لیے سعی کا وجوب زوال کے وقت اذانِ اول سے شروع ہوتا ہے اور مفتیٰ بہ قول بھی یہی ہے کہ جمعہ کی اذانِ اول کا اصل وقت زوال کے فوراً بعد کا ہے۔" نیز اسی جلد کے صفحہ 532-533 پر درج ہے کہ حنفیہ کا صحیح مذہب یہ ہے کہ جمعہ میں تعجیل (جلدی کرنا) مستحب ہے، ابراد (تاخیر) جو موسمِ گرما میں ظہر کے لیے مستحب ہے، وہ جمعہ میں نہیں ہے بلکہ جمعہ جلد ادا کرنا مستحب ہے اور احادیث سے بھی جمعہ کی تعجیل ہی ثابت ہوتی ہے۔ جواب طلب امر یہ ہے کہ جن محلوں میں اذانِ اول تاخیر سے ہوتی ہے، کیا ان محلوں کے مکین اذانِ اول میں تاخیر کو عذر بنا کر سعی الی الجمعہ (جو کہ واجب ہے) میں تاخیر کرنے اور دیگر مشغولیات میں لگے رہنے کی وجہ سے گنہگار ہوں گے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ جمعہ کی پہلی اذان کے بعد ہی سعی الی الجمعہ واجب ہو جاتی ہے، لہٰذا پہلی اذان کے بعد کسی ایسے دنیاوی کام میں مشغول ہونا جو جمعہ کی سعی سے مانع ہو، جائز نہیں۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ اگر کسی محلے یا شہر میں متعدد اذانیں ہو رہی ہوں تو کس مسجد کی اذان سے سعی واجب ہوگی؟ اس بارے میں فقہائے کرام کی کوئی صریح عبارت نہیں مل سکی۔ البتہ آذان کی اجابت بالاقدام میں فقہائے کرام نے یہ وضاحت کی ہے کہ اگر متعدد آذانیں ہوں تو اپنی مسجد کی اذان پر اجابتِ بالاقدام واجب ہوتی ہے، چونکہ جمعہ کی سعی بھی اسی طرح ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی اس مسجد کی اذان اول سے واجب ہوگی جہاں وہ نماز پڑھتا ہو۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جن محلوں کی مساجد میں جمعہ کی آذان تاخیر سے دی جاتی ہو تو اس سے پہلے خرید و فروخت وغیرہ کرنے کی وجہ سے اس محلے کا مکین گنہگار نہیں ہوگا، کیونکہ دیگر مساجد میں آذان ہونے کی وجہ سے اس پر سعی واجب نہیں ہوتی۔ واللہ اعلم ۔
عن أنس بن مالك رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي الجمعة حين تميل الشمس. (صحيح البخاري، كتاب الجمعة، باب: وقت الجمعة إذا زالت الشمس،ج:1،ص:307،رقم:862)
حدثنا عبدان قال: أخبرنا عبد الله قال: أخبرنا حميد، عن أنس قال: كنا نبكر بالجمعة، ونقيل بعد الجمعة.(صحيح البخاري، 2/ 7)
والظاهر أن المأمورين بترك البيع هم المأمورون بالسعي إلى الصلاة. (تفسير الألوسي روح المعاني، 14/ 297)
(ووجب سعي إليها وترك البيع)۔۔۔(بالأذان الأول) في الأصح۔ وقال ابن عابدين تحته: ( قوله في الأصح) قال في شرح المنية. واختلفوا في المراد بالأذان الأول فقيل الأول باعتبار المشروعية وهو الذي بين يدي المنبر لأنه الذي كان أولا في زمنه عليه الصلاة والسلام وزمن أبي بكر وعمر حتى أحدث عثمان الأذان الثاني على الزوراء حين كثر الناس. والأصح أنه الأول باعتبار الوقت، وهو الذي يكون على المنارة بعد الزوال. (رد المحتار على الدر المختار،2/ 161)
(وجمعة كظهر أصلا واستحبابا) في الزمانين؛ لأنها خلفه۔ وقال إبن عابدين تحته: (قوله: واستحبابا في الزمانين) أي الشتاء والصيف ح، لكن جزم في الأشباه من فن الأحكام أنه لا يسن لها الإبراد. وفي جامع الفتاوى لقارئ الهداية: قيل إنه مشروع؛ لأنها تؤدى في وقت الظهر وتقوم مقامه، وقال الجمهور: ليس بمشروع؛ لأنها تقام بجمع عظيم، فتأخيرها مفض إلى الحرج ولا كذلك الظهر وموافقة الخلف لأصله من كل وجه ليس بشرط. (رد المحتار على الدر المختار،1/ 367)
والذي ينبغي تحريره في هذا المحل أن الإجابة باللسان مستحبة وأن الإجابة بالقدم واجبة۔ ( رد المحتار على الدر المختار، ج: 1، ص:399)
وفي التتارخانية إنما يجيب أذان مسجده. وسأل ظهير الدين عمن سمعه في آن من جهات ماذا يجب عليه؟ قال: إجابة أذان مسجده بالفعل. قال ابن عابدين تحته: (قوله: قال إنما يجيب أذان مسجده) أي بالقدم، (رد المحتار على الدر المختار ، ج: 1، ص:400)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں