بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

مضاربت کے پیسوں میں زکوۃ اداکرنےکی ذمہ داری


سوال

زید کا اپنا ذاتی کارپٹ کاکاروبارہےاوراس کے ساتھ بکرنے کارپٹ کے کاروبار میں دو کروڑ روپے مضاربت کی ترتیب پردئےہیں کہ نفع دونوں کا برابر ہوگا تواب اس صورت میں زکوٰۃ کس پر ہوگی ،دونوں پریاجس نے دو کروڑ دئےہیں ؟

 

جواب

واضح رہے کہ مضاربت  میں زکوۃ کی ادائیگی کی ذمہ داری رب المال پرہوتی ہے نہ کہ مضارب  پر،البتہ اگرمضارب خود صاحب نصاب ہوتواپنےمال کی زکوۃ ادا کرےگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق زید پر اپنے حصے اورملکیت کی زکوۃ کی ادائیگی لازم ہے اوربکر کے دوکروڑ روپے کی زکوۃ بکرپرلازم ہے۔

 

الخليطان في المواشي كغير الخليطين فإن كان نصيب كل واحد منهما يبلغ نصابا وجبت الزكاة، وإلا فلا سواء كانت شركتهما عنانا أو مفاوضة أو شركة ملك بالإرث أو غيره من أسباب الملك وسواء كانت في مرعى واحد أو في مراع مختلفة فإن كان نصيب أحدهما يبلغ نصابا ونصيب الآخر لا يبلغ نصابا وجبت الزكاة على الذي يبلغ نصيبه نصابا دون الآخر.( الفتاوى الهندية،ج:1،ص:181)

(ولا تجب) الزكاة عندنا (في نصاب) مشترك (من سائمة) ومال تجارة (وإن صحت الخلطة فيه) .....،وإن تعدد النصاب تجب إجماعا، ويتراجعان بالحصص، وبيانه في الحاوي، فإن بلغ نصيب أحدهما نصابا زكاه دون الآخر.(الدر المختار، کتاب الزکاۃ، ص:132)


فتویٰ نمبر : 11098/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں