بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/10/2026 |
دارالافتاء
مردہ کافر کی آنکھ نکال کر مسلمان کے جسم میں لگانا
سوال
میرا بھائی امریکہ میں مستقل رہائش پزیر ہے اور وہاں پر اس کو آنکھ کا مسئلہ پیش آیا ہے اور اس کا علاج آنکھ کی پیوند کاری سے ممکن ہے توکیا میرے بھائی کے جسم میں کسی مردہ کافر کی آنکھ نکال کر لگانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ کسی بھی انسان (خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر، اور زندہ ہو یا مردہ) کے اعضاء کو دوسرے انسان کے جسم میں اس کی اجازت کے ساتھ یا اس کی اجازت کے بغیر لگانا شریعتِ مطہرہ میں جائز نہیں ہے،البتہ اگر کوئی شدید ضرورت ہو اور کوئی دوسرا متبادل علاج میسر نہ ہوتو اس کے جواز کے لیے کچھ شرائط ہیں:(1)کم از کم دو مسلمان ڈاکٹر تصدیق کریں کہ پیوند کاری کے علاوہ کوئی اور طریقہ علاج نہیں۔(2)پیوند کاری سے مریض کو فائدہ ہونے کا یقین یا غالب گمان ہو۔(3)عضو عطیہ دہندہ کی رضامندی سے حاصل شدہ ہو۔پھر چاہےوہ زندہ ہو یا مردہ۔(4)عطیہ کرنے والے کی جانی یا کسی بنیادی منفعت کو کوئی بڑا خطرہ لاحق نہ ہو۔(5)اعضا کی پیوند کاری اس وقت جائز ہوگی جب مریض کی جان یا کسی عضو کو شدید خطرہ لاحق ہو۔(6)اعضا کی خرید وفروخت کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں ،لہذا ضروری ہے کہ عضو محض عطیہ سے حاصل شدہ ہو۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شرائط کے مطابق آنکھ کی پیوند کاری کی اجازت ہے ، بصورت دیگر جائز نہیں۔
قال الله تعالی: ﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ﴾(سورة الإسراء،آيت نمبر:70)
الضرورات تبيح المحظورات.(الأشباه والنظائر،القاعدة الفقهية،سادسًا: أقسام القواعد الفقهية،ج:1،ص:29)
ولا يجوز بيع شعور الإنسان ولا الانتفاع بها" لأن الآدمي مكرم لا مبتذل فلا يجوز أن يكون شيء من أجزائه مهانا ومبتذلا.( الهداية في شرح بداية المبتدي،كتاب البيوع،باب البيع الفاسد،ج:3،ص:46)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں