بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

نذرکی رقم مسجد کی تعمیرمیں دینا


سوال

ایک شخص نےنذرمانی ہےکہ اگر میراعمرہ کاویزالگ گیا، تومیں اتنی رقم اللہ کےنام پردوں گا۔عمرہ کاویزا لگ جانےکےبعد اب مذکورہ رقم مسجد کی تعمیرمیں دینا شرعاجائزہےیا نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ نذرصدقات واجبہ میں سےہےاوراس میں بنیادی شرط تملیک ہےاورمسجد میں رقم صرف کرنےسےتملیک کی شرط پوری نہیں ہوتی۔

لہذا صورت مسئولہ میں نذرکی رقم مسجد کی تعمیرمیں خرچ کرنا جائزنہیں بلکہ غربا کی ملکیت میں دینےسےنذرکی ادائیگی درست ہوجائے گی۔

                            

 (أي مصرف الزکوۃ والعشر) ….. وھو مصرف أیضا لصدقۃ الفطر، والکفارۃ، والنذر وغیرذلک من الصدقات الواجبۃ.  (ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الزکوۃ، باب المصرف، ج:2، ص:282)

ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه. (الفتاوى الھندية، كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج: 1، ص:188)


فتویٰ نمبر : 11089/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں