بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

نکاح خوانی کےلیےاجرت مقررکرنا


سوال

نکاح خوانی پراجرت لینا کیسا ہےاوراس اجرت کومقررکرناجائزہےیا نہیں؟رہنمائی کریں۔

جواب

واضح رہےکہ نکاح پڑھاناچونکہ کسی کی ذمہ داری نہیں اس لیےاس کےعوض اجرت لی جاسکتی ہےبشرط یہ کہ پہلےسےاجرت کی تعیین ہوئی ہو۔

صورت مسئولہ کےمطابق نکاح خوانی پراجرت لینا بھی جائزہوگااوراجرت کومقررکرنےمیں بھی کوئی حرج نہیں۔

 

وکل نکاح باشرہ القاضی ، وقد وجبت مباشرتہ علیہ کنکاح الصغاروالصغائر، فلا یحل لہ أخذالاجرۃعلیہ وما لم تجب مباشرتہ علیہ، حل لہ أخذ الاجرۃعلیہ. (الفتاوی الھندیۃ، کتاب أدب القاضی، الباب الخامس عشر،ج:3، ص:345)

إن كان الأجر دراهم أو دنانير فلا بد من بيان القدر أنه كذا وبيان الصفة. (الفتاوى الهندية،کتاب الإجارۃ، الباب الثانی متی تجب الأجرۃ وما یتعلق بہ من الملک وغیرہ، ج:4، ص:412)


فتویٰ نمبر : 4219/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں