بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 28/10/2026

دارالافتاء

 

ابراھیم علیہ السلام کے اعلان حج پر لبیک کہنے سے متعلق روایت


سوال

روایات میں آتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس بنجر ریگستان میں کھڑے ہو کر آواز دی، تو اللہ تعالیٰ نے وہ آواز ہر اس روح تک پہنچا دی جو قیامت تک پیدا ہونے والی تھی۔ جس نے اس وقت جتنی بار "لبیک" (میں حاضر ہوں) کہا، اللہ اسے اتنی ہی بار بیت اللہ کی زیارت نصیب فرماتا ہے۔یہ روایت صحیح ہے یا نہیں؟ نیز اس کو بیان کرنا کیسا ہے؟

 

جواب

تفسیر طبری میں ذکر ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام خانہٴ کعبہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالی نے انہیں حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کردیں کہ وہ اس گھر کے حج کے لیے آئیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! میری آواز سب لوگوں تک کیسے پہنچ سکتی ہے؟ اللہ تعالی نے فرمایا: آپ اعلان کریں، آواز  ہم پہنچائیں گے،  چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک پہاڑ پر کھڑے ہوئے اور آواز لگائی: لوگو! اللہ تعالی نے تمہارے اوپر اس مبارک گھر کا حج فرض کیا ہے، لہذا حج کو آؤ۔ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس آواز کو ہر روح تک پہنچادیا، پھر جس کے لیے حج مقدر تھا اس نے اس آواز پر لبیک کہا۔

یہ واقعہ تفسیرِ طبری میں مذکور ہے۔ لیکن یہ روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفا مروی ہے۔ چنانچہ عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے اسے نقل کیا جاسکتاہے لیکن رسول اللہ ﷺکی طرف منسوب کرکے بیان کرنا ٹھیک نہیں۔

 

حدثنا ابن حميد، قال: ثنا جرير، عن قابوس، عن أبيه، عن ابن عباس،قال:لما فرغ إبراهيم من بناء البيت قيل له: {أذن في الناس بالحج} [الحج: 27] قال:رب وما يبلغ  صوتي؟ قال: أذن ، وعلي البلاغ، فنادى إبراهيم: أيها الناس كتب عليكم الحج إلى البيت العتيق ، فحجوا قال: فسمعه ما بين السماء والأرض، أفلا ترى الناس يجيئون من أقصى الأرض يلبون؟

حدثنا الحسن بن عرفة، قال: ثنا محمد بن فضيل بن غزوان الضبي، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال:لما بنى إبراهيم البيت أوحى الله إليه، أن أذن في الناس بالحج قال: فقال إبراهيم: ألا إن ربكم قد اتخذ بيتا، وأمركم أن تحجوه، فاستجاب له ما سمعه من شيء من حجر، وشجر، وأكمة، أو تراب، أو شيء:لبيك اللهم لبيك"

حدثنا ابن حميد قال:ثنا يحيى بن واضح قال:ثنا ابن واقد، عن أبي الزبير، عن مجاهد، عن ابن عباس:قوله: {وأذن في الناس بالحج} [الحج: 27] قال:قام إبراهيم خليل الله على الحجر،فنادى:يا أيها الناس،كتب عليكم الحج، فأسمع من في أصلاب الرجال،وأرحام النساء، فأجابه من آمن ممن سبق في علم الله أن يحج إلى يوم القيامة: لبيك اللهم لبيك. (تفسير الطبري، ج:16، ص:514)


فتویٰ نمبر : 6844/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں