بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

رغبت جماع کے بغیرعورت کو ہاتھ لگانا


سوال

دارالافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور کا ایک فتویٰ پڑھا حرمت مصاہرت کے بارے میں کہ جس عورت کو شہوت کے ساتھ چھوا ہےاس کے ساتھ رغبت جماع بھی ضروری ہے،مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ایک عورت کی طلاق ہوچکی ہےاوراب دوبارہ نکاح کرنا ہےبچوں کی خاطر،لیکن طلاق کےبعد سسرنے چند ( پانچ سے چھ) بارعورت کو بری نیت سےہاتھ لگایا ہےبغیرحائل کے،سسرکااس بارے میں حلفاً یہ بیان ہے کہ:ہاتھ بنا کسی حائل کے لگایا تھا،اورہاتھ لگانےسےانتشارہوا تھا لیکن ہاتھ لگاتےوقت مجامعت کی خواہش موجود نہیں تھی،اورنہ ہی جماع کا ارادہ تھا،اس صورت میں کیا اس عورت کا نکاح دوبارہ اپنےخاوند سے درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کوئی شخص کسی عورت کو شہوت کےساتھ چھوتاہے،تواس سےحرمت مصاہرت کے ثبوت کےلیےجوشرائط بیان کی گئی ہیں،ان میں سے شہوت کے ساتھ رغبت جماع کا ہونا بھی ضروری ہے۔

صورت مسئولہ میں اگرمطلقہ عورت کو اس کے سسر نے بلا حائل کے ہاتھ لگایاہواور ہاتھ لگانے سے انتشار بھی ہواہو، لیکن اس کےحلفیہ بیان کے مطابق اس وقت رغبتِ جماع (جماع کی خواہش) موجود نہیں تھی تو حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوئی۔ لہذا حرمت مصاہرت ثابت نہ ہونے کی وجہ سے اس عورت کے لیے سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح  کرنا جائز ہے۔

 

وجعلوا حدّ الشهوة أن يميل قلبه إليها ويشتهي جماعها.(المحيط البرهاني، کتاب النکاح، الفصل الثالث عشر فى بيان اسباب تحريم، ج:3، ص:63)

قال عامة العلماء ‌الشهوة ‌أن ‌يميل قلبه إليها ويشتهي أن يواقعها، كذا في قاضي خان.(درر الحكام شرح غرر الأحكام، كتاب النكاح، ج:1، ص:330)


فتویٰ نمبر : 7528/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں