بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 28/10/2026

دارالافتاء

 

وتر کی دوسری رکعت کے بعد سلام پھیرنا


سوال

اگر کوئی شخص وتر کی دو رکعت ادا کرلے اور اس کے بعد سلام پھیر لے اور اس سے ایک رکعت رہ جائے تو کیا یہ شخص وتر کی نماز دوبارہ پڑھے گا یا نہیں؟

جواب

اگر کسی شخص نے وتر کی دو رکعتیں ادا کرکے تشہد کے بعد بھول کر سلام پھیر دیا، اور سلام پھیرنے کے بعد نماز کے منافی کوئی عمل نہ کیا اور تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوگیا اور اسے مکمل کرلیا، تو ایسی صورت میں سجدہ سہو کرنے سے اس کی نماز درست ہو گی۔ لہذا ایسی صورت میں وتر کا دوبارہ پڑھنا لازم نہیں ہوگا۔ تاہم اگر سلام پھیرنے کے بعد نماز کے منافی عمل کیا تو اس صورت میں ازسرنو وتر پڑھنا لازم ہے ۔

 

ولو سلم مصلي الظهر على رأس الركعتين على ظن أنه قد أتمها، ثم علم أنه صلى ركعتين، وهو على مكانه يتمها ويسجد للسهو أما الإتمام فلأنه سلام سهو فلا يخرجه عن الصلاة.وأما وجوب السجدة فلتأخير الفرض وهو القيام إلى الشفع الثاني۔(بدائع الصنائع،فصل في بيان سبب وجوب السهو،ج:1،ص:164)


فتویٰ نمبر : 11086/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں