بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مدرسہ کی زمین کا تبادلہ کرنا


سوال

میں نے ایک پلاٹ 29 مرلے مدر سہ بنات کے لیے وقف کیا ہے ۔ لیکن اب تک نہ اس پرتعمیر ہوئی ہے، نہ درس و تدر یس شروع ہوئی ہے، اب میں ایک مجبوری کی بنا پر اس جگہ پراپنےلیے مکان تعمیر کر کے مدرسہ کے لیےدوسری جگہ دے دوں، یا دوسری پلاٹ فروخت کر کے اس کی رقم  مسجد و مدرسہ میں لگاؤں تو کیا اس کی اجازت ہوگی  ؟

جواب

واضح رہے کہ وقف تام ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ موقوفہ چیز جس مقصد کے لیے وقف کی گئی ہو، اس میں کم سے کم ایک مرتبہ استعمال ہوجائے، چنانچہ مدرسہ کے لیے وقف کئے گئے پلاٹ کا وقف اس وقت تام متصور ہوگا جب اس میں تعلیمی سلسلہ شروع ہوجائے۔

صورت مسئولہ میں اگر سائل نے مدرسہ کے لیے پلاٹ وقف کیا ہو لیکن ابھی تک اس پر تعمیر نہ ہوئی ہواورنہ اس میں ابھی تک درس وتدریس کا سلسلہ شروع ہوا ہو تو وقف تام نہ ہونے کی وجہ سے اس جگہ کو دوسری جگہ سے تبدیل کرنے یا اس پلاٹ کو فروخت کرکے اس کی رقم مسجد و مدرسہ میں لگانے کی شرعااجازت ہوگی۔

 

(ويزول ملكه عن المسجد والمصلى) بالفعل و (بقوله جعلته مسجدا) عند الثاني (وشرط محمد) والامام (الصلاة فيه)…لأنه لابد من التسليم عندهما خلافا لأبي يوسف وتسليم كل شيئ بحسبه،فيفي المقبرة بدفن واحد  ‌ففي ‌المقبرة ‌بدفن ‌واحد وفي السقاية بشربه وفي الخان بنزوله كما في الإسعاف، واشتراط الجماعة لأنها المقصودة من المسجد. (رد المحتارعلى الدرالمختار، كتاب الوقف، ج:6، ص:546)


فتویٰ نمبر : 4214/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں