بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

مساج كروانے والے کے لیےٹرانسپورٹ سروس مہیا کرنے پراجرت لينا


سوال

ایک آن لائن مساج سروس کا پلیٹ فارم ہے جس پر مرد اور خواتین دونوں مساج تھراپسٹ کام کرتے ہیں۔ مرد تھراپسٹ صرف مرد کسٹمرز کو مساج کرتے ہیں، جبکہ خواتین تھراپسٹ صرف خواتین کسٹمرز کو مساج کرتی ہیں۔جب کسی تھراپسٹ کو آرڈر ملتا ہے تو کمپنی کی گاڑی اسے کسٹمر کے گھر تک پہنچاتی ہے اور ضرورت کے مطابق واپس بھی لاتی ہے۔ گاڑی کا مالک/ڈرائیور اس ٹرانسپورٹ سروس کے بدلے اجرت حاصل کرتا ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس گاڑی کے ذریعے تھراپسٹس کو کسٹمرز کے گھروں تک پہنچانے کی اجرت  شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟

جواب

واضح رہے کہ مساج (مالش) مطلقا ناجائز نہیں ہے، بلکہ جائز بھی ہوسکتی ہے اور ناجائز بھی، اس لیے مساج کے لیے کسی کو لے جانےپر ڈرائیور کی خدمات براہِ راست گناہ کا فعل شمار نہیں ہوگااورڈرائیور کے لیےمساج تھراپسٹ کو کسٹمر کے گھر تک پہنچانے اور واپس لانے کی اجرت لینا شرعاً جائز ہوگا۔

 

ولو استأجر الذمي مسلماً ليبني له بيعة أو كنيسة جاز، ويطيب له الأجر. وكذلك لو أن امرأة استكتبته كتاباً، إلى حبها جاز ويطيب له الأجر؛ لأنه بدل عمله. (المحيط البرهاني، كتاب الإجارات، ج:7، ص:482)


فتویٰ نمبر : 4215/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں