بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

پہلے شوہر کی موجودگی میں دوسرا نکاح کرنا


سوال

ایک عورت کا نکاح ایک ایسے شخص سے ہوا تھا جو اس پر مسلسل ظلم و ستم کرتا تھا، مار پیٹ کرتا تھا اور اس کے ساتھ رہنا انتہائی دشوار ہو گیا تھا۔ ایک موقع پر شوہر نے چھری سے حملہ کر کے عورت کو زخمی کر دیا، جس پر وہ اپنی جان بچانے کے لیے گھر سے بھاگ گئی اور کافی دور جا پہنچی، جہاں ایک شخص نے اس کی مدد کی اور اس کا خیال رکھا۔ بعد ازاں اس عورت نے پہلے شوہر سے نہ خلع لیا اور نہ ہی کسی شرعی قاضی یا دارالقضاء کے ذریعے فسخِ نکاح کروایا، بلکہ دوسرے شخص سے نکاح کر لیا اور اس کے ساتھ رہنے لگی۔ اس واقعہ کو تقریباً 30 سال گزر چکے ہیں۔ دوسرے شخص سے اس کے تین بچے ہیں (دو بیٹے اور ایک بیٹی)، جبکہ پہلے شوہر سے ایک بیٹا ہے۔ دونوں مرد اس وقت زندہ ہیں۔ عورت کی کچھ جائیداد بھی ہے جو اس کے بھائی کے پاس امانت ہے۔ بھائی اور اس کے گھر والے چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ خفیہ رہے، جبکہ پہلے شوہر سے پیدا ہونے والا بیٹا اپنی والدہ کی جائیداد میں حصہ کا مطالبہ کر رہا ہے۔ مزید وضاحت: ہمیں یقین کے ساتھ معلوم نہیں کہ پہلے شوہر نے بعد میں کبھی طلاق دی تھی یا نہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق نہ طلاق کا علم ہے، نہ خلع ہوا، اور نہ ہی شرعی قاضی یا دارالقضاء کے ذریعے فسخِ نکاح کی کوئی اطلاع ہے۔ البتہ یہ احتمال موجود ہے کہ بعد میں طلاق دی گئی ہو لیکن ہمیں اس کا علم نہ ہو۔ اس لیے براہِ کرم دونوں صورتوں (اگر طلاق ثابت ہو جائے اور اگر طلاق ثابت نہ ہو) کا شرعی حکم بھی واضح فرما دیں۔ مفتیانِ کرام سے درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں: 1. اگر پہلے شوہر کی طلاق ثابت نہ ہو، تو دوسرے نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا وہ منعقد ہوا یا نہیں؟ 2. اگر بعد میں پہلے شوہر کی طلاق ثابت ہو جائے، تو کیا اس سے دوسرے نکاح کی حیثیت پر کوئی اثر پڑے گا، یا اس وقت نئے سرے سے نکاح کرنا ضروری ہوگا؟ 3. اتنے طویل عرصہ گزر جانے اور اولاد ہونے کے باوجود موجودہ شرعی حکم کیا ہے؟ کیا دونوں کو فوراً علیحدہ ہونا لازم ہے یا اس کی کوئی اور شرعی صورت موجود ہے؟ 4. اگر دونوں سچے دل سے اپنے اس عمل پر توبہ کریں تو کیا اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی امید رکھی جا سکتی ہے؟ 5. موجودہ صورت میں عورت اور دوسرے شخص پر شرعاً کیا لازم ہے؟ 6. عورت کی وفات کے بعد اس کی جائیداد شرعی طور پر کن وارثوں میں تقسیم ہوگی اور کس تناسب سے؟ 7. کیا عورت اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کسی کو ہبہ کر سکتی ہے تاکہ یہ معاملہ خفیہ رہے؟ نیز کیا پہلے بیٹے کو کچھ دے کر صلح کر لینا شرعاً جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جب تک کوئی عورت کسی مرد کے نکاح میں ہو تو وہ دوسرے مرد کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتی، اس لئے جب تک پہلے شوہر کی طرف سے طلاق، یا خلع سے آزاد ہونا یا کسی شرعی عدالت کے ذریعے فسخ نکاح ثابت نہ ہو، تو عورت کا نکاح برقرار رہتا ہے۔ محض شوہر کے ظلم وستم اور مارپیٹ یا لمبے عرصے تک شوہر سے علیحدہ رہنے کی وجہ سے نکاح خود بخود ختم نہیں ہوتا ۔

1) لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر پہلے شوہر کی طرف سے طلاق ثابت نہ ہو، تو عورت کا دوسرے شخص سے کیا ہوا نکاح شرعاً ناجائز و باطل ہے، اس لئے اس عورت اور دوسرے شخص کے درمیان علیحدگی ضروری ہے اور اس نکاح سے زوجیت قائم نہیں ہوئی، بلکہ عورت بدستور پہلے شوہر کے نکاح میں ہے ۔

2) اگر دو معتبر گواہوں یا پہلے شوہر کے اقرار سے یہ ثابت ہوجائے کہ پہلے شوہر نے دوسرے نکاح سے پہلے طلاق دی تھی اور عدت بھی پوری ہوچکی تھی، تو دوسرا نکاح شرعاً درست شمار ہوگا، اور نئے سرے سے نکاح کی ضرورت نہیں ہوگی ۔

3) جس شخص کے ساتھ دوسرا نکاح کیا ہے اس کے ساتھ طویل عرصہ گزارنے کے باوجود اس سے فورا جدائی ضروری ہے ۔

4) اللہ تعالیٰ سے سچے دل کے ساتھ معافی مانگے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرمائیں گے ۔

5) عورت کی وفات کے بعد اس کے تمام بچوں کا میراث میں حق ہوگا اگر پہلا شوہر زندہ ہو وہ بھی حق دار ہوگا تاہم دوسرا شوہر حق دار نہ ہوگا ۔

6) عورت اگر اپنی زندگی میں چاہے تو اولاد کو اپنا جائداد ہبہ کر سکتی ہے تاہم تقسیم میں انصاف کا معاملہ ضروری ہے ورنہ گناہ گار ہوگی ۔

 

قال اللہ تعالی: ﴿قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾(سورة الزمر،آيت:53)

  قال رحمه الله (ويرث ولد الزنا واللعان بجهة الأم فقط) لأن نسبه من جهة الأب منقطع فلا يرث به، ومن جهة الأم ثابت فيرث به أمه۔( تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،كتاب الفرائض،ج:6،ص:241)

أما نکاح معتدۃ الغیر ومنکوحتہ، فالدخول فیہ لا یوجب العدۃ إن علم أنہا للغیر؛ لأنہ لم یقل أحد بجوازہ فلم ینعقد أصلاً۔)ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب النكاح ،ج:3،ص:132)

لایجوز للرجل أن یتزوج زوجۃ غیرہ۔ (الفتاوى الهندية، كتاب النكاح،ج:1،ص:280)

وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الاولاد في المحبة لانها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الاضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى. ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم.(الدرالمختار شرح تنوير الابصار،كتاب الهبة، ص:562)


فتویٰ نمبر : 7536/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں